مصنوعی ذہانت کا بے جا استعمال، نیویارک کے بعد لاس اینجلس کے اسکولوں میں بھی اے آئی پر پابندی

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں تعلیمی اداروں کے اندر مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر ایک اور بڑی پابندی سامنے آئی ہے، اس بار یہ اقدام ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس میں اٹھایا گیا ہے۔

امریکا کے دوسرے سب سے بڑے پبلک اسکول ڈسٹرکٹ ‘لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ’ نے بدھ کے روز ایک کمیٹی اجلاس کے دوران تمام کلاسوں کے لیے اسکول سے فراہم کردہ لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیوائسز پر ‘جنریٹو اے آئی’ کے استعمال پر عارضی پابندی عائد کردی ہے۔

اس حوالے سے اساتذہ، بچوں اور والدین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی امریکی غیر منافع بخش تنظیم ‘کامن سینس میڈیا’ کی چیف پروگرام آفیسر نے ‘لاس اینجلس ٹائمز’ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ طلبہ کی جانب سے جنریٹو اے آئی کے استعمال سے جڑے شدید خطرات کا جائزہ لینے کے لیے ضروری وقت لے رہا ہے۔ رواں برس اس ضمن میں بہت کام کرنا باقی ہے، بشمول طلبہ کو ‘اے آئی لٹریسی’ (مصنوعی ذہانت کی آگاہی) فراہم کرنا، جس کے لیے بچوں کا خود اے آئی استعمال کرنا ضروری نہیں ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے ظہران ممدانی کا بڑا فیصلہ، نیویارک کے اسکولوں میں طلبہ کے AI استعمال پر ایک سال کی پابندی

انہوں نے مزید کہا ’مارکیٹ میں موجود اے آئی کی بیشتر مصنوعات بچوں کے تحفظ اور تعلیمی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر تیار نہیں کی گئیں۔ ہماری تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ امریکی نوجوانوں اور بچوں کی زندگیوں میں اے آئی کا استعمال ہر جگہ پھیل چکا ہے، اور اسکولوں میں پابندی کے باوجود طلبہ اسے اپنی ذاتی ڈیوائسز پر استعمال کرتے ہیں۔‘

لاس اینجلس تعلیمی بورڈ کا یہ فیصلہ نیویارک سٹی کی جانب سے عائد کی جانے والی اسی نوعیت کی پابندی کے فوراً بعد سامنے آیا ہے، جہاں میئر ظہران ممدانی نے آٹھویں جماعت تک کے تمام طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایک سال کے لیے مکمل پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ابتدائی تعلیمی سطح پر ٹیکنالوجی بالخصوص مصنوعی ذہانت پر طلبہ کے بڑھتے ہوئے انحصار کے بارے میں تشویش ظاہر کیے جانے کے بعد، امریکا بھر کے مزید اسکول اب ان جدید ٹولز کے استعمال پر سخت ضوابط عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے نیویارک میئر ظہران ممدانی نے اسکولوں میں ’اے آئی‘ کے استعمال پر پابندی کیوں عائد کی؟، وجہ سامنے آگئی

غیر جانبدار امریکی تھنک ٹینک ‘پیو ریسرچ سینٹر’ نے رواں سال فروری میں ایک سروے کے نتائج شائع کیے تھے، جس کے مطابق امریکی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اب اپنی تعلیمی و تدریسی زندگی میں مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب لاس اینجلس یونیفائیڈ اسکول ڈسٹرکٹ نے کلاس رومز میں ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کیے ہوں۔ اس سے قبل 2024 میں بھی ڈسٹرکٹ کے تعلیمی بورڈ نے کلاس رومز کے اندر سمارٹ فونز اور موبائل فونز کے استعمال پر مکمل پابندی کا فیصلہ منظور کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp