اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین نے نئی مصنوعی ذہانت کی پیشکش جی پی ٹی-6 آسٹرا کے اجرا کے دوران ادائیگی کرنے والے صارفین کو فوری رسائی نہ ملنے پر معذرت کرلی۔
اوپن اے آئی کی جانب سے جی پی ٹی-6 آسٹرا متعارف کرانے کے چند ہی گھنٹوں بعد کمپنی کے سربراہ سیم آلٹمین نے اس کے اجرا کے طریقہ کار کو ’بے ترتیب‘ قرار دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ فوری رسائی کی توقع رکھنے والے ادائیگی کرنے والے صارفین کو انتظار کرنا پڑا اور انہیں رسائی ملنے کے حوالے سے کوئی حتمی وقت بھی نہیں دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سیم آلٹمین کے خلاف مقدمہ کیوں ہارے؟ تکنیکی وجہ سامنے آگئی
اوپن اے آئی نے آسٹرا کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ’جنریشن چھلانگ‘ قرار دیا اور کمپنی کے عہدیداروں کے مطابق اسے ’مصنوعی عمومی ذہانت کے دور‘ سے جوڑا جارہا ہے۔ تاہم ابتدا میں اس کی رسائی محدود رکھی گئی اور اوپن اے آئی کے ڈے بریک سائبر سیکیورٹی پروگرام میں شامل کمپنیوں کو پہلے آسٹرا تک رسائی دی گئی۔
اس کے بعد پلس، پرو، بزنس اور انٹرپرائز چیٹ جی پی ٹی صارفین، جبکہ ای پی آئی آئی، مائیکروسافٹ ایژور اور اے ڈبلیو ایس بیڈرک صارفین کو چند روز میں رسائی فراہم کیے جانے کا اعلان کیا گیا۔
پرو صارفین، جنہیں عموماً نئی پیشکشوں تک پہلے رسائی حاصل ہوتی ہے، اس مرتبہ انٹرپرائز صارفین کو اپنے سے پہلے آسٹرا استعمال کرتے دیکھتے رہے، جس پر اوپن اے آئی کی جانب سے نئی پیشکش سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹس کے جواب میں صارفین نے شکایات کیں۔
یہ بھی پڑھیں: اوپن اے آئی نے امریکی حکومت کو 5فیصد شراکت کی تجویز کیوں دی؟
سیم آلٹمین نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ صارفین رواں ہفتے کے اختتام تک آسٹرا استعمال کرسکیں گے، تاہم وہ اس کی ضمانت نہیں دے سکتے۔
اوپن اے آئی کے کوڈیکس انجینیئرنگ سربراہ تھیبالٹ سوٹیو نے انتظار کرنے والے ادائیگی کرنے والے صارفین کو سہولت دینے کے لیے کہا کہ آسٹرا تک رسائی نہ ملنے والے ہر دن کے عوض انہیں ایک اضافی ری سیٹ فراہم کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم صارفین کو جلد از جلد رسائی دینے کے لیے بھرپور کوشش کررہی ہے۔
آلٹمین کے مطابق کمپنی کو آسٹرا کے اجرا کے دوران بلاگ پوسٹ جاری کرنے میں بھی ایک معمولی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب ماہرین نے آسٹرا کے نظام کو سابقہ ماڈلز کے مقابلے میں سمجھنے اور اس کی منطق کا پتا سراغ لگانے میں مشکلات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہی طریقہ اس واقعے کی نشاندہی میں بھی استعمال ہوا تھا جس میں اوپن اے آئی کے مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس کے ہگنگ فیس پر حملہ کرنے کا انکشاف ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کلاڈ، چیٹ جی پی ٹی، گروک اور مائیکروسافٹ کی سروسز میں تعطل، بحالی شروع
اوپن اے آئی کے مطابق اس واقعے کے بعد حفاظتی خصوصیات میں بہتری کے لیے آسٹرا کی پیشکش کئی ہفتوں تک مؤخر کی گئی تھی۔
سیم آلٹمین نے یہ بھی اعتراف کیا کہ جی پی ٹی-5 متعارف کراتے وقت کمپنی نے ’کچھ معاملات میں مکمل طور پر غلطیاں کیں‘، بالخصوص جی پی ٹی-4 او ماڈل کو اچانک بند کرنے کے بعد پیدا ہونے والے مسائل کے باعث کمپنی کو مشکلات کا سیمنا کرنا پڑا تھا۔












