سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سربراہ ایلون مسک، اوپن اے آئی اور اس کے سی ای او سیم آلٹمین کے خلاف دائر 150 ارب ڈالر کا تاریخی مقدمہ تکنیکی بنیاد پر ہار گئے ہیں۔
امریکی فیڈرل جیوری نے صرف 2 گھنٹے سے بھی کم وقت کی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ سنایا کہ ایلون مسک نے مقدمہ دائر کرنے میں بہت زیادہ دیر کردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک اور اوپن اے آئی کے درمیان ہائی پروفائل قانونی معرکہ منطقی انجام کے قریب پہنچ گیا
مقدمے کی 3 ہفتے جاری رہنے والی ڈرامائی سماعت کے بعد جج نے کیس کو موقع پر ہی خارج کردیا کیونکہ ایلون مسک قانونی چارہ جوئی کی مقررہ مدت گزار چکے تھے۔
ایلون مسک نے الزام لگایا تھا کہ سیم آلٹمین نے ان کی پیٹھ پیچھے ادارے کو غیر منافع بخش سے منافع بخش تجارتی مشین میں تبدیل کرکے دھوکہ دیا ہے۔
تاہم عدالت نے اس بات پر کوئی فیصلہ نہیں دیا کہ آیا اوپن اے آئی نے اپنے اصل مشن سے انحراف کیا ہے یا نہیں بلکہ صرف ڈیڈ لائن کو بنیاد بنایا۔
جیوری کے مطابق کمپنی کے ڈھانچے میں یہ تجارتی تبدیلی برسوں پہلے پبلک ہوچکی تھی، اس لیے مسک نے کیس فائل کرنے کے لیے بہت لمبا انتظار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بیجنگ: ایلون مسک کی استقبالیہ تقریب کے دوران تصاویر اور ویڈیوز نے چینی انٹرنیٹ پر دھوم مچا دی
ایلون مسک نے اس فیصلے پر سخت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ عدالت نے کیس کے میرٹ پر نہیں بلکہ صرف کیلنڈر کی تکنیکی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے۔
انہوں نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف جلد ہی اعلیٰ عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔
دوسری جانب اوپن اے آئی کے وکیل نے اس جیت کا جشن مناتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ یہ مقدمہ محض کمپنی کو بدنام اور تباہ کرنے کی ایک حریفانہ کوشش تھا۔












