اخوت فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب کا کہنا ہے کہ مستحق شخص کو تلاش کرنے کے لیے بھی اتنی ہی محنت کرنی چاہیے جتنی انسان دولت کمانے کے لیے کرتا ہے کیوں کہ خیرات و عطیات دینے سے پہلے حقدار کو ڈھونڈنا نہایت ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھیک نہیں قرض حسنہ دے کر لوگوں کو بااختیار بنانے کا مشن ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب
عالمی یوم خیرات کے موقعے پر وی نیوز سے خصوصی گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ دنیا نے خیرات کو منانے کے لیے ایک دن مقرر کیا ہے لیکن خیرات کو صرف ایک دن تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ حقیقت میں ہر دن ہی یوم خیرات ہونا چاہیے کیوں کہ خیرات سے مراد صرف رقم دینا نہیں بلکہ کسی کی مدد کرنا، کسی کے آنسو پونچھنا اور اس کے ساتھ تعلق قائم کرنا ہے۔
ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ خیرات کا مقصد کسی کو مستقل محتاج بنانا نہیں بلکہ اس کی عزت نفس کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ اخوت فاؤنڈیشن لوگوں کو خیرات کا عادی بنانے کے بجائے قرض حسنہ کے ذریعے ان کو باعزت روزگار کی طرف لانے کی کوشش کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مستحق اور معتبر اداروں کی تلاش اب مشکل نہیں رہی۔ پاکستان سینٹر فار فلنتھروپی ایک آزاد ادارہ ہے جس نے ہزاروں این جی اوز کے لیے معیار مقرر کیے ہیں اور لوگ اس کی ویب سائٹ پر صحت، تعلیم، چھوٹے قرضوں یا یتیم خانوں کے شعبے میں معتبر ادارہ تلاش کر سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام سے ایک کروڑ لوگوں کی مدد کی جارہی ہے، ڈاکٹر امجد ثاقب
انہوں نے کہا کہ سب سے پہلا حق مستحق رشتہ داروں کا ہے۔ اس کے علاوہ ہر صاحب حیثیت شخص اپنے ملازمین، جیسے ڈرائیور یا باورچی کے بچوں کی تعلیم اور ہنر کی ذمہ داری لے سکتا ہے۔
ان کے مطابق اگر لوگ اپنی زکوٰۃ کا صرف ڈھائی فیصد بھی پوری دیانت داری سے ادا کریں تو بعض حسابات کے مطابق ہر سال حکومت پاکستان کے بجٹ سے کم از کم 3 گنا زیادہ رقم جمع ہوسکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اخوت کا تصور 1400 سال پرانی مواخات مدینہ سے لیا گیا ہے۔ اگر ایک انصار اور ایک مہاجر مل کر زندگی بنا سکتے ہیں تو پاکستان میں بھی 50 فیصد بہتر حیثیت والے اور 50 فیصد کمزور لوگ مل کر ایک بہتر معاشرہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: مستحق لوگوں تک ان کا حق پہنچانا حکومت کی ترجیح ہے، چیئرمین بی آئی ایس پی امجد ثاقب
ایک یادگار واقعہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اخوت یونیورسٹی کے لیے ’ایک اینٹ خریدیں، یونیورسٹی بنائیں‘ مہم میں ایک اینٹ کی قیمت 1000 روپے رکھی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک 70 سالہ خاتون نے کہا کہ ان کے پاس 1000 نہیں صرف 500 روپے ہیں تو کیا انہیں آدھی اینٹ مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب نے کہا کہ ان کے نزدیک وہ آدھی اینٹ ہزاروں اینٹوں سے بڑھ کر تھی کیونکہ اصل قدر اس بات میں ہے کہ انسان اپنے پاس سے کتنا حصہ دیتا ہے۔













