امریکی اور روسی حکام کے درمیان یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ماسکو میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کو کریملن نے مفید اور تعمیری قرار دیا ہے، تاہم تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات کے باوجود جنگ بندی یا امن معاہدے کی جانب کوئی فوری پیش رفت نہ ہوسکی۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ماسکو میں امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے 3 گھنٹے 10 منٹ تک ملاقات کی، جس میں یوکرین جنگ ختم کرنے کے ممکنہ راستوں اور مستقبل کے امن معاہدے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
US envoys Steve Witkoff and Jared Kushner met Russian President Vladimir Putin at the Kremlin on Saturday for talks to try to revive stalled negotiations to end the Russia-Ukraine conflict. pic.twitter.com/eHxhowJqKC
— Al Jazeera English (@AJEnglish) September 5, 2026
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف کے مطابق مذاکرات انتہائی واضح، تعمیری اور سنجیدہ ماحول میں ہوئے۔ انہوں نے ملاقات کو بروقت اور مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے متعدد اہم امور پر تفصیلی گفتگو کی، تاہم کسی فوری پیش رفت یا حتمی معاہدے تک نہیں پہنچا جاسکا۔
امریکی نمائندوں نے جنگ کے خاتمے اور ممکنہ تصفیے کے لیے متعدد تجاویز روسی قیادت کے سامنے رکھیں۔ اس کے جواب میں صدر پیوٹن نے واضح کیا کہ ماسکو اپنے جنگی اہداف حاصل کرنے کے لیے پُراعتماد ہے اور میدانِ جنگ میں روسی پیش قدمی کا بھی حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھیں:برطانیہ کو یوکرین جنگ میں مداخلت پر روس کی سخت دھمکی، فوجی تنصیبات نشانہ بنانے کا انتباہ
روسی صدر نے مؤقف دہرایا کہ کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے تنازع کی بنیادی وجوہات کا حل ضروری ہوگا۔ مذاکرات میں یوکرین جنگ کے علاوہ روس اور امریکا کے درمیان اقتصادی معاملات اور مستقبل میں بڑے مشترکہ منصوبوں کے امکانات پر بھی بات چیت ہوئی۔
ماسکو میں ملاقات کے بعد امریکی نمائندے کیف روانہ ہوگئے، جہاں وہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے اور روسی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور تجاویز سے انہیں آگاہ کریں گے۔
Ukraine-Russia war latest: No sign of breakthrough in Putin’s ‘highly useful’ peace talks as Trump envoys head to Kyivhttps://t.co/sAuUlXh0rT
— The Independent (@Independent) September 6, 2026
امریکی اور روسی رابطوں کے دوران دارالحکومت کیف میں فضائی حملوں میں مختصر اور عارضی وقفے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جاسکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ماسکو مذاکرات میں فوری پیش رفت نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس، امریکا اور یوکرین کے درمیان اہم اختلافات اب بھی موجود ہیں، تاہم اعلیٰ سطح پر براہ راست رابطوں کا جاری رہنا سفارتی حل کی کوششوں کے لیے اہم پیش رفت تصور کیا جارہا ہے۔














