برلن: جرمنی نے ڈرون حملوں، سائبر حملوں اور روس کی جانب سے مبینہ تخریبی کارروائیوں سے نمٹنے کے لیے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جرمن میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ گزشتہ ماہ ایک ہوائی اڈے پر ڈرون حملے کی ناکام کوشش کے بعد کیا گیا ہے۔
جرمنی کے وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنٹ کے مطابق روس کی جانب سے کیے جانے والے ہائبرڈ حملے اب روزمرہ کی حقیقت کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی نے لیپزگ ایئرپورٹ پر ڈرون حملے کا الزام روس پر عائد کردیا
انہوں نے کہا کہ ’’یہ حملے مزید بڑھیں گے، تاہم ہم اپنا دفاع اور حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘‘
روس طویل عرصے سے مغربی یورپ میں تخریبی کارروائیوں کے الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے، ماسکو نے جرمنی کے ہوائی اڈے پر ڈرون حملے میں ملوث ہونے کی بھی تردید کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وہ روس مخالف اقدامات کا جواب دے گا۔
اخبار نے جرمن وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت پولیس کی ڈرون مخالف صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔
According to BILD, Germany is planning a nationwide “protective shield” against Russian hybrid attacks following a failed explosive-drone attack at Leipzig/Halle Airport.
The plan includes expanding mobile police drone-defense units, giving critical-infrastructure companies… pic.twitter.com/kreDEwtShE
— Military Summary (@MilitarySummary) September 6, 2026
فوری طور پر تعینات کیے جا سکنے والے انسدادِ ڈرون یونٹس مختلف شہروں میں قائم کیے جائیں گے، جو اہم ٹرانسپورٹ مراکز اور حکومتی علاقوں کی فضائی حدود کی نگرانی اور حفاظت کریں گے۔
منصوبے کے تحت بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور دفاعی سازوسامان تیار کرنے والے اداروں سمیت اہم بنیادی ڈھانچے سے وابستہ کمپنیوں کو بھی قانونی اختیار دیا جائے گا کہ وہ مشکوک ڈرونز کی صرف نشاندہی ہی نہ کریں بلکہ انہیں فعال طور پر ناکارہ بنانے کے اقدامات بھی کر سکیں۔
مزید پڑھیں: جرمنی: بس ڈرائیور کی بہادری نے نیٹو کے اہم ایئرپورٹ کو تباہی سے بچا لیا
جرمنی ایک قومی حفاظتی نظام، جسے ’سائبر ڈوم‘ کا نام دیا گیا ہے، قائم کرنے کا بھی ارادہ رکھتا ہے، اس نظام میں ڈیجیٹل سینسرز کا ایک وسیع نیٹ ورک شامل ہوگا جو ہیکنگ کی ممکنہ کوششوں کا سراغ لگانے اور انہیں روکنے میں مدد دے گا۔
جرمن حکومت تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرنے والے مشتبہ افراد کی شناخت کے لیے مصنوعی ذہانت سے معاون ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک چہرہ شناخت نظام اور ویڈیو نگرانی کے استعمال کو بھی وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔














