چھوٹے یونٹس، بڑے سوال: محسن نقوی کے اصرار کے بعد اب کیا ہوگا؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کا معاملہ روزانہ کی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے حالیہ بیان کہ نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، چھوٹے یونٹس تو بن کر رہیں گے، نے اس معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر چھوٹے یونٹس وقت کی ضرورت ہیں اور اس سے حکومتی نظام کو عوام کے مزید قریب لایا جا سکتا ہے۔

ان کے بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا نئے انتظامی یونٹس گورننس، وسائل کی بہتر تقسیم اور عوامی مسائل کے فوری حل میں مددگار ثابت ہوں گے؟ یا پھر نئے یونٹس کا قیام مزید سیاسی اختلافات اور آئینی پیچیدگیوں کو جنم دے گا؟

مزید پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟

محسن نقوی کےچھوٹے یونٹس کے قیام سے متعلق بیان پر وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں کے قیام پر انہیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم اس کے لیے آئین میں طے شدہ طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔

ان کے مطابق اگر ملک میں مزید صوبے یا چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جاتے ہیں تو یہ فیصلہ آئینی اور پارلیمانی نظام کے تحت ہی ممکن ہے۔

رانا ثنااللہ نے محسن نقوی کے اس بیان پر بھی سوال اٹھایا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سسٹم تباہ ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ واضح ہونا چاہیے کہ محسن نقوی آخر کس نظام کی بات کررہے ہیں، کیونکہ ملک میں 1973 کا آئین موجود ہے اور اسی کے تحت پارلیمانی جمہوری نظام چل رہا ہے۔

ان کے مطابق سسٹم تباہ ہونے سے متعلق یہ بیان بے معنی ہے اور اس کا کوئی واضح سیاق و سباق نظر نہیں آتا۔

مسائل کے حل کے لیے صرف انتظامی یونٹس بنانا کافی نہیں ہوگا، مجیب الرحمان شامی

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے تجزیہ کار مجیب الرحمان شامی کا کہنا تھا کہ یہ تو محسن نقوی ہی بتا سکتے ہیں کہ وہ نئے اور چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ اگر مقصد واقعی گورننس کو بہتر بنانا، وسائل کی منصفانہ تقسیم کرنا اور عوام کے مسائل فوری طور پر حل کرنا ہے تو پھر صرف نئے یونٹس بنانا کافی نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ جمہوریت کا اصل مقصد یہ ہے کہ عوام کو اختیار دیا جائے اور حکومتی نظام کو نچلی سطح تک مؤثر بنایا جائے۔ اگر اختیارات عوام اور مقامی حکومتوں تک منتقل نہیں ہوں گے تو نئے انتظامی یونٹس بھی مسائل کا مکمل حل نہیں دے سکیں گے۔

انہوں نے کہاکہ دوسری طرف یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ نئے یونٹس کے قیام سے کہیں سیاسی اختلافات اور آئینی پیچیدگیاں مزید تو پیدا نہیں ہوں گی۔ اصل ضرورت انتظامی نقشہ تبدیل کرنے کے ساتھ ساتھ نظامِ حکمرانی کو بھی مؤثر اور عوام دوست بنانے کی ہے۔

جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام کے مسائل ان کے اپنے علاقوں میں حل ہوں، احمد ولید

تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق محسن نقوی پہلے بھی صوبوں کی تقسیم کے حوالے سے بات کر چکے ہیں، تاہم اب ان کی توجہ پورے ملک میں چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام پر ہے تاکہ عوام کو حکومتی سہولیات زیادہ بہتر انداز میں ان کی دہلیز تک پہنچائی جا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر براہِ راست بجٹ اور ترقیاتی وسائل اضلاع یا انتظامی یونٹس کو دیے جائیں تو مقامی سطح پر عوامی مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے نیشنل فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن کو بھی مؤثر بنایا جانا چاہیے، تاکہ فنڈز براہِ راست انتظامی یونٹس اور مقامی حکومتوں تک پہنچیں۔ چاہے بلدیاتی نظام ہو، میئر سسٹم ہو یا کوئی اور مقامی حکومتی ڈھانچہ، بنیادی مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر یونین کونسل اور مقامی علاقے کے پاس اپنے مسائل حل کرنے کے لیے مناسب بجٹ اور اختیار موجود ہو۔

احمد ولید کا کہنا ہے کہ اس نظام کے ذریعے مقامی نمائندے وفاق یا صوبائی حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے علاقے کے ترقیاتی کام خود کروا سکیں گے۔ دنیا کے کئی جمہوری ممالک میں بھی اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک منتقل کیے جاتے ہیں، کیونکہ جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب عوام کے مسائل ان کے اپنے علاقوں میں حل ہوں۔

ان کے مطابق پاکستان میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ سیاسی جماعتیں بلدیاتی نظام اور مقامی حکومتوں کو وہ اہمیت نہیں دیتیں جو دینی چاہیے۔ نتیجتاً صوبائی حکومتوں کے پاس زیادہ اختیارات اور وسائل مرکوز رہتے ہیں اور ترقیاتی کاموں میں بھی سیاسی ترجیحات کا اثر نظر آتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر فنڈز اور اختیارات براہِ راست مقامی سطح تک منتقل کر دیے جائیں تو نہ صرف عوامی مسائل بہتر طور پر حل ہو سکتے ہیں بلکہ ترقیاتی وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا مسئلہ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

صرف نئے صوبے بننے سے ہی مسائل حل نہیں ہوں گے، فرخ سلیم

کیا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ہی پاکستان کے معاشی مسائل کا واحد حل ہیں؟ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر اقتصادیات فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ ایسا سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کے نزدیک انتظامی یونٹس میں اضافہ اپنی جگہ ایک انتظامی فیصلہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا براہِ راست مطلب یہ نہیں کہ اس سے پاکستان کی معیشت کے بنیادی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔

فرخ سلیم کے مطابق پاکستان کو اس وقت ٹیکس وصولی بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے حکومتی اخراجات کو بھی بہتر انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست کے پاس موجود وسائل مؤثر انداز میں استعمال نہیں ہوں گے اور غیر ضروری اخراجات پر قابو نہیں پایا جائے گا تو محض صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تعداد بڑھانے سے معاشی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر نئے انتظامی یونٹس بنائے جاتے ہیں تو اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے مالی وسائل کہاں سے آئیں گے، انتظامی ڈھانچے کے اخراجات کیسے پورے ہوں گے اور عوام کو ان کے بدلے میں بہتر سہولیات کس حد تک فراہم کی جائیں گی۔ اصل توجہ اس بات پر ہونی چاہیے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور ترقیاتی اخراجات کا فائدہ براہِ راست عام شہری تک پہنچے۔

فرخ سلیم کے مطابق پاکستان کے لیے اصل چیلنج صوبوں کی تعداد نہیں بلکہ گورننس، مالیاتی نظم و ضبط اور وسائل کے مؤثر استعمال کا ہے۔ اس لیے نئے انتظامی یونٹس کو معیشت کا واحد حل سمجھنے کے بجائے انہیں وسیع تر انتظامی اور معاشی اصلاحات کا حصہ بنانا ہوگا۔

موجودہ انتظامی ڈھانچے میں توازن کا مسئلہ موجود ہے، ضیغم خان

معاشی و سیاسی تجزیہ کار ضیغم خان کے مطابق پاکستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس بنانے کی بحث کو دو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک پہلو یہ ہے کہ گورننس بہتر بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، مقامی حکومتوں کی مضبوطی اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کتنی ضروری ہے، جبکہ دوسرا پہلو سیاسی ہے کہ ایسی تبدیلیوں کے پیچھے کون سے مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔

ضیغم خان کے مطابق پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، تاہم موجودہ انتظامی ڈھانچے میں توازن کا مسئلہ موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پنجاب آبادی، جغرافیے اور لسانی تنوع کے اعتبار سے ایک بہت بڑا صوبہ ہے، جس کے باعث دیگر صوبوں اور علاقوں کے ساتھ انتظامی توازن کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ اگرچہ 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، لیکن اختیارات کی مکمل منتقلی اور نچلی سطح تک مؤثر حکمرانی اب بھی ایک چیلنج ہے۔

ان کے مطابق پاکستان میں حکمرانی کا نظام بڑی حد تک سرپرستی (Patronage) پر مبنی رہا ہے، جہاں طاقت اور وسائل رکھنے والے افراد یا حکومتیں اپنے پسندیدہ علاقوں اور گروہوں کو زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی علاقے ترقیاتی وسائل سے محروم رہ جاتے ہیں اور مرکز اور دور دراز علاقوں کے درمیان خلیج بڑھتی ہے۔

ضیغم خان کے مطابق اس مسئلے کا حل صرف نئے صوبے بنانا نہیں بلکہ ڈی سینٹرلائزیشن یعنی اختیارات اور وسائل کو مقامی سطح تک منتقل کرنا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ مقامی حکومتوں کو مضبوط، بااختیار اور مالی وسائل سے لیس کرنا ضروری ہے تاکہ عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔

ان کے مطابق اضلاع ہر سطح کی منصوبہ بندی کے لیے ہمیشہ کافی بڑے انتظامی یونٹس ثابت نہیں ہوتے، اس لیے ایسے یونٹس کی ضرورت ہو سکتی ہے جہاں کئی اضلاع مل کر صحت، تعلیم، سڑکوں اور ترقیاتی منصوبوں کی بہتر منصوبہ بندی اور نگرانی کر سکیں۔ ان کے نزدیک ڈویژن یا اس نوعیت کے انتظامی یونٹس اس مقصد کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

تاہم ضیغم خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بہت زیادہ تعداد میں نئے صوبے بنانا قابلِ عمل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق پاکستان ایک وفاق ہے اور وفاقی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلیاں احتیاط سے کرنی چاہییں۔ جہاں انتظامی ضرورت موجود ہو، وہاں نئے یونٹس بنانے پر غور کیا جا سکتا ہے، جیسے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بہتر انتظام کے لیے اصلاحات کی گنجائش موجود ہے۔

مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

ضیغم خان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ کتنے نئے صوبے یا یونٹس بنائے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ کون سا انتظامی ماڈل عوام کو بہتر سہولیات، شفاف حکمرانی اور ترقی کے یکساں مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق چھوٹے انتظامی یونٹس اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب انہیں واضح اختیارات، مناسب مالی وسائل اور مضبوط مقامی حکومتوں کے نظام کے ساتھ نافذ کیا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp