میر رضا کیس: ’پولیس کی بدنیتی کے باوجود سوسائیڈ کے نریٹیو کو امپاسیبل بنادیا، اب یہ مرڈر ہے‘

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میر رضا کیس میں مدعی مقدمہ کے وکیل اور معروف قانون دان جبران ناصر ایڈووکیٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پولیس کی تمام تر بدنیتی اور کیس کو خودکشی قرار دینے کی کوششوں کے باوجود مقتول کے اہلخانہ، سڑکوں پر نکلنے والے نوجوانوں اور میڈیا کے دباؤ نے اس نریٹیو کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے۔ وی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کیس کی پیشرفت، جے آئی ٹی کی تشکیل اور گواہوں پر پولیس کے دباؤ کے حوالے سے اہم حقائق سامنے رکھے۔

جے آئی ٹی کی عدم تشکیل اور ہائیکورٹ سے رجوع کا فیصلہ

جبران ناصر نے جے آئی ٹی کی درخواست سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیشن عدالت کا فیصلہ اپیل کے قابل ہے۔ پولیس کی جانب سے اعلیٰ سطح پر جن کوتاہیوں اور غلطیوں کا اعتراف کیا گیا، وہ کوئی متنازع حقائق (Disputed Facts) نہیں تھے۔ عدالت کو ان تمام مسلمہ حقائق کا جائزہ لے کر فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ کیا یہ جے آئی ٹی بنانے کے لیے کافی ہیں یا نہیں۔

مزید پڑھیں:میر رضا علی کیس میں اہم پیشرفت، میڈیکل بورڈ نے خودکشی کا امکان رد کردیا، اہم انکشافات

انہوں نے کہا کہ ایسا لگا جیسے عدالت نے کچھ نہ کرنے کا روزہ رکھ رکھا ہو۔ اب ہمارا اگلا قانونی فورم ہائیکورٹ ہوگا جہاں ہم آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اس فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

خودکشی یا قتل؟ پولیس کے نریٹیو کا خاتمہ

ابتدائی پولیس رپورٹ میں کیس کو خودکشی کا رنگ دینے کی کوششوں پر بات کرتے ہوئے جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس کی شدید خواہش تھی کہ اسے سوسائیڈ قرار دیا جائے، لیکن فیملی کے مضبوط موقف اور میڈیا کی کوریج نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے بد نیت اور بد دیانت پولیس افسران کے لیے اب یہ ناممکن بنا دیا ہے کہ وہ اس کیس کو دبائیں۔ اب یہ صاف اور شفاف مرڈر کیس ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا قاتل ٹریپ ہو پا رہا ہے یا نہیں؟

حقائق پر پردہ ڈالنے کی کوششیں اور افواہوں کا بازار

واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی عدم فراہمی اور کیس کو مس گائیڈ کرنے سے متعلق سوال پر ایڈووکیٹ جبران ناصر نے کہا کہ ملک کی تاریخ میں طاقتور لوگ، بیوروکریسی، لا انفورسمنٹ ایجنسیوں کے افراد یا سیاستدان مختلف کیسز میں ملوث رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ جب تک حکومت اور پولیس اصل حقائق سامنے نہیں لائیں گی، افواہیں جنم لیتی رہیں گی اور لوگ اپنی اپنی پسند کے مطابق شک کا اظہار کریں گے۔ اگر حکومت نیت صاف رکھتی تو فوری طور پر جے آئی ٹی تشکیل دیتی تاکہ سچائی سامنے آسکتی۔

مزید پڑھیں:سچائی کی قیمت اور بے حسی کا تازیانہ: میر رضا کیس میں گواہی دینے والا غریب ڈرائیور کیوں بے گھر ہو گیا

گواہان پر دباؤ اور بائیکیا ڈرائیور کے ساتھ ناروا سلوک

کیس کے گواہوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جبران ناصر نے انکشاف کیا کہ پولیس افسر ارشد آفریدی نے کمیشن کے سامنے پہلے مکمل حقائق بیان نہیں کیے، جس پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں تنبیہ کی کہ پولیس اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کے بجائے سچ بتائے۔

اس کے علاوہ، واقعے کے اہم گواہ اور بائیکیا ڈرائیور احسن اللہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احسن اللہ ایک عام اور شریف شہری ہے جو پہلے دن سے قانون کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ بائیکیا کمپنی نے اس کا ساتھ دینے کے بجائے اسے نوکری سے فارغ کر دیا، جو انتہائی قابلِ مذمت رویہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp