نیپال میں حالیہ تباہ کن گلیشیائی سیلاب اور پہاڑی تودے گرنے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں پیر کو قومی یومِ سوگ منایا گیا، جبکہ سرنگوں میں پھنسے سیکڑوں ہائیڈرو پاور کارکنوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی زندگی کی امید لیے امدادی کارروائیوں کے نتائج کے منتظر ہیں۔
قومی یومِ سوگ کے موقع پر ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے، جبکہ شام کو متاثرین کی یاد میں شمعیں روشن کرنے کی تقریبات منعقد کی گئیں۔
تباہی کے باعث متعدد بستیاں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں، سڑکیں تباہ ہوئیں اور بڑی تعداد میں مکانات منہدم ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال: سیلاب زدہ علاقوں میں چینی شہری سمیت مزید 2 افراد زندہ نکال لیے گئے
لاپتا افراد میں سینکڑوں ہائیڈرو پاور ورکرز بھی شامل ہیں، تاہم گہری سرنگوں سے 3 کارکنوں کو زندہ نکالے جانے کے بعد امدادی ٹیموں اور اہل خانہ کی امیدیں بڑھ گئی ہیں۔
جمعے کو 2 نیپالی کارکنوں جبکہ ہفتے کو ایک چینی شہری کو سرنگ سے بحفاظت نکالا گیا تھا۔
Nepali Buddhists pray at a temple in Nuwakot, a town that was severely hit by devastating flash floods, as the Hindu-majority country observes a day of mourning.
The glacial and mountain collapse on the China-Nepal border killed at least 1,385 people and left more than 5,500… pic.twitter.com/m1DU3KSy8I
— AFP News Agency (@AFP) September 7, 2026
26 اگست کو چین اور نیپال کی سرحد کے قریب گلیشیئر اور پہاڑی تودے گرنے کے بعد آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، نیپالی حکام کے مطابق ملک میں اب تک 1,355 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ تقریباً 4,996 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ چین میں بھی 43 افراد کے ہلاک اور 519 کے لاپتا ہونے کی اطلاع ہے۔
نیپالی فوج کے ترجمان راجا رام بسنیٹ نے کہا کہ ریسکیو آپریشن پہلے دن کی رفتار سے جاری ہے اور امدادی ٹیمیں زمین، فضا اور سرنگوں کے اندر بیک وقت تلاش کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: نیپال میں تباہ کن سیلاب : 20 ہزار مکانات دوبارہ تعمیر کرنے کا تخمینہ، لاپتا افراد کی تلاش جاری
ان کے مطابق کوشش ہے کہ کوئی شخص کسی مقام پر زندہ پھنسا ہوا نہ رہ جائے۔
دوسری جانب دارالحکومت کھٹمنڈو میں لاپتا کارکنوں کے اہل خانہ نے حکومت سے امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک متاثرہ خاتون رینا امتیا شریستھا نے کہا کہ انہیں اپنے بھائی کے زندہ ہونے کی امید ہے، تاہم حکومت کو ریسکیو آپریشن کے نتائج بھی سامنے لانے چاہئیں۔

آسٹریلوی ٹنل ریسکیو ماہر آرنلڈ ڈکس نے، جو نیپالی ٹیموں کو مشاورت فراہم کر رہے ہیں، اس آپریشن کو اپنی زندگی کا غیر معمولی تجربہ قرار دیا۔
چین، بھارت اور جنوبی کوریا کے ماہرین بھی نیپال کی امدادی ٹیموں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق مردہ خانوں میں گنجائش ختم ہونے کے باعث سینکڑوں لاشیں ڈی این اے نمونے لینے کے بعد اجتماعی قبروں میں دفن کی جا چکی ہیں، جبکہ صرف تقریباً 100 لاشوں کی شناخت کرکے انہیں اہل خانہ کے حوالے کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: نیپال میں سیلابی تباہ کاری: مذہبی رسومات ادا کیے بغیر ہی اجتماعی تدفین کا آغاز
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئر کے انہدام کی حتمی وجہ واضح نہیں، تاہم موسمیاتی تبدیلی کے باعث دنیا بھر میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے ایسے سانحات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف عمارتوں کو پہنچنے والے نقصان کی مالیت 158 ملین ڈالر ہے، جبکہ مجموعی نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
عالمی ادارے نے 84 ہزار سے زائد متاثرین کی مدد کے لیے 50 ملین ڈالر کی امداد کی اپیل کرتے ہوئے عالمی برادری سے نیپال کی فوری مدد پر زور دیا ہے۔














