نیپال میں تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی کارروائیوں کے دوران ریسکیو ٹیموں نے ہفتے کے روز مزید 2 افراد کو زندہ نکال لیا، جس کے بعد حالیہ ریسکیو کیے جانے والے افراد کی تعداد 4 ہوگئی ہے۔
تازہ ترین کارروائی میں ایک چینی شہری کو پن بجلی منصوبے سے منسلک سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا، یہ گزشتہ 2 روز کے دوران تریشولی پن بجلی منصوبے کے مقام پر تیسری کامیاب ریسکیو کارروائی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نیپال: ہائیڈرو پاور سرنگ سے 9 روز بعد 2 کارکن زندہ نکال لیے گئے
اس سے قبل جمعے کو تریشولی 3 اے پن بجلی منصوبے کی ایک سرنگ سے 2 نیپالی کارکنوں کو زندہ باہر نکالا گیا تھا۔
نیپالی فوج کے مطابق چینی شہری کو نکالنے کی کارروائی میں نیپالی فوجی اہلکاروں کے ساتھ جنوبی کوریا کے ڈیزاسٹر رسپانس ماہرین نے بھی حصہ لیا۔
Another ray of hope from the darkness! 🇳🇵🇨🇳
One Chinese 🇨🇳 worker has been successfully rescued from the UT-1 (216) tunnel. 🙏🛟
After 10 days trapped deep underground, this moment brings tears, relief, and renewed hope to everyone waiting for their safe return.
One life… pic.twitter.com/TEsuLWArTo
— Ananda Nepali (@anandanepali99) September 5, 2026
متاثرہ شخص کو 225 میٹر طویل سرنگ سے زندہ نکالا گیا، جس کے بعد اسے طبی معائنے کے لیے منتقل کر دیا گیا۔
فوج کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں چینی شہری کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے منتقل کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جبکہ سفر کے دوران ایک فوجی طبی اہلکار بھی اس کے ساتھ موجود تھا۔
ادھر نوواکوت شہر میں امدادی کارکنوں نے ایک تباہ شدہ مکان کے ملبے سے 64 سالہ خاتون چندیکا شریستھا کو بھی زندہ نکال لیا۔
مزید پڑھیں: نیپال:500 انجینئرز کا انوکھا واٹس ایپ گروپ کیسے تباہ شدہ سرنگوں میں پھنسے افراد کو نکال رہا ہے؟
حکام کے مطابق خاتون کو طبی امداد کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے کھٹمنڈو منتقل کیا جا رہا ہے۔
ریسکیو آپریشن کی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو خاتون کو سرمئی کمبل میں لپیٹ کر مکان سے باہر نکالتے ہوئے دیکھا گیا۔
نیپالی حکام کے مطابق ملک کے 12 پن بجلی منصوبوں میں تقریباً 900 کارکن تاحال لاپتا ہیں، جن میں سے لگ بھگ 500 کے مختلف سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
مزید پڑھیں: نیپال کا موسمیاتی انصاف کا مطالبہ، ہمالیائی تباہی کے بعد امیر ممالک سے ذمہ داری قبول کرنے پر زور
26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب، جس کی ممکنہ وجہ گلیشیئر کا ٹوٹنا بتائی گئی ہے، کے نتیجے میں کم از کم 1300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ نیپال کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے مطابق 5000 سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔
امدادی اداروں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور سرنگوں، تباہ شدہ عمارتوں اور دیگر مقامات پر پھنسے افراد کی تلاش کی جا رہی ہے۔














