پاکستان نے پیر کے روز متنازعہ علاقے جموں و کشمیر کے نقشے سے متعلق بھارتی دعوؤں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی کے یہ مطالبات بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حقائق کے منافی ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ایک بیان میں کہا کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور مسلسل غیر قانونی قبضہ، جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے بھارتی اقدامات مسترد، پاکستان کا کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم
ان کے یہ الفاظ بھارتی وزارت خارجہ کے اس بیان کے جواب میں سامنے آئے جس میں متنازعہ علاقوں جموں و کشمیر اور لداخ کو بھارت کے سرکاری نقشے کے مطابق دکھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحت کی کہ اقوام متحدہ کے سرکاری نقشے، جو جموں و کشمیر کو ایک متنازعہ علاقے کے طور پر دکھاتے ہیں، اس کی موجودہ قانونی حیثیت کی واحد معتبر جغرافیائی نمائندگی کرتے ہیں۔
🔊PR No.2️⃣3️⃣8️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Statement by the Spokesperson
🔗⬇️ pic.twitter.com/YV7kDWpZx6
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) September 7, 2026
‘بھارت کے نام نہاد سرکاری نقشوں اور خودمختاری کے یکطرفہ دعوؤں کی متنازعہ علاقے کی حیثیت پر کوئی اثر انگیزی نہیں ہے۔’
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق، تنازعہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود سب سے پرانے اور غیر حل شدہ بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی سفیر کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق متنازع بیان، پاکستان کا شدید احتجاج، امریکی ناظم الامور کی طلبی
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ قرار دادیں اس بات کی پابند کرتی ہیں کہ اس کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک آزادانہ اور منصفانہ صوابدید یعنی استصواب رائے کے ذریعے کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق ہونا چاہیے۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بھارت کو بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں فوری طور پر روکنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کی فراہمی کے عہد کو پورا کرنے کا پابند بنائے۔
اقوام متحدہ کا نیا عالمی نقشہ
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 4 ستمبر کو دنیا کا ایک نیا نقشہ منظور کرنے کی حق میں ووٹنگ کی جس میں براعظم افریقہ کو بڑا جبکہ شمالی امریکا اور یورپ کو چھوٹا دکھایا گیا ہے، جس پر واشنگٹن کی جانب سے شدید برہمی کا اظہار کیا گیا ہے۔
براعظموں کے زمینی رقبے کی ’زیادہ درست نمائندگی‘ کے مقصد سے لائی گئی اس قرارداد کی 164 ممالک نے حمایت کی، جبکہ امریکا نے اس کے خلاف ووٹ دیا اور 6 دیگر ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
قرارداد کے متن کے مطابق، یہ نیا نقشہ جسے ‘ایکوئل ارتھ کارٹوگرافک پروجیکشن’ کے نام سے جانا جاتا ہے، دنیا کی جغرافیائی نمائندگی کی درستگی میں نمایاں بہبود لاتا ہے۔













