پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کرکے ڈیمارش جاری کردیا۔
وزارت خارجہ کے مطابق امریکی ناظم الامور کو آج وزارت خارجہ طلب کیا گیا اور بھارتی غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے دورے کے دوران امریکی سفیر برائے بھارت کے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق حقائق کے منافی ریمارکس پر سخت ڈیمارش کیا گیا۔
🔈 PR No. 2️⃣2️⃣2️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Demarche on the Visit of the US Ambassador to India, Sergio Gor, to IIOJK, and Incorrect Statement regarding the Status of the Disputed Territory
🔗⬇️ pic.twitter.com/Vlg9IwiWlC
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 19, 2026
پاکستان نے جموں و کشمیر کو ’بھارت کا حصہ‘ قرار دینے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اس مؤقف کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا۔
پاکستان کی جانب سے واضح کیا گیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کے حتمی تصفیے کا فیصلہ متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا ہے۔
وزارت خارجہ کے مطابق امریکی سفیر کا غیر ذمہ دارانہ بیان جموں و کشمیر کے تنازع پر امریکا کے دیرینہ مؤقف کی نفی کرتا ہے اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی بالادستی کے حوالے سے امریکا کے عزم کے بھی منافی ہے۔
پاکستان کی جانب سے معرکۂ حق کے بعد جموں و کشمیر کے تنازع کے حل کے لیے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیشکش کو سراہتے ہوئے امریکی فریق پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے عوامی بیانات جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے مطابقت رکھتے ہوں۔














