پاکستان سپر لیگ کی بعض فرنچائزز نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کھلاڑیوں کے بنیادی معاوضے میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
ذرائع کے مطابق یہ تجویز گزشتہ ہفتے لندن میں چیئرمین پی سی بی محسن نقوی کی زیر صدارت ہونے والے پی ایس ایل کونسل کے اجلاس میں پیش کی گئی، تاہم چیئرمین پی سی بی نے اجلاس کے دوران مطالبے پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
مزید پڑھیں:پاکستان سپر لیگ 11: جیسن گلیسپی حیدرآباد فرنچائز کے ہیڈ کوچ مقرر
پی ایس ایل کے پہلے 10 ایڈیشنز مکمل ہونے کے بعد پی سی بی نے نیلامی نظام کے تحت فی فرنچائز کھلاڑیوں کا بنیادی سیلری پرس بڑھا کر 16 لاکھ ڈالر کردیا تھا، جو قریباً 45 کروڑ روپے بنتا ہے۔ گزشتہ سیزن میں حصہ نہ لینے والے کسی اہل غیرملکی کھلاڑی کو براہ راست سائن کرنے کی صورت میں یہ رقم 18 لاکھ ڈالر، یعنی قریباً 50 کروڑ 50 لاکھ روپے تک بڑھائی جاسکتی ہے۔
موجودہ سیلری اسٹرکچر کے تحت ایلیٹ یا ٹاپ کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ 50 ہزار ڈالر، دوسری کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 80 ہزار ڈالر، تیسری کیٹیگری کو 40 ہزار ڈالر جبکہ چوتھی کیٹیگری کے کھلاڑیوں کو 21 ہزار 500 ڈالر تک معاوضہ دیا جاسکتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سیلری پرس کم کرنے کا مطالبہ رواں سال 3 فرنچائزز کی بھاری قیمتوں پر فروخت کے بعد سامنے آیا ہے۔ نئی فرنچائزز حیدرآباد ایک ارب 75 کروڑ روپے اور راولپنڈی ایک ارب 85 کروڑ روپے میں فروخت ہوئیں، جبکہ ملتان سلطانز ایک ارب 8 کروڑ روپے میں فروخت کی گئی۔
دیگر 5 فرنچائزز کے موجودہ مالکان نے بعد ازاں اپنی ٹیمیں نسبتاً کم قیمت پر دوبارہ حاصل کرلیں۔
مزید پڑھیں:پاکستان سپر لیگ 11 میں تاریخی اصلاحات، پلیئر ڈرافٹ کی جگہ پلیئر آکشن ماڈل متعارف
ذرائع کے مطابق نئی فرنچائزز کے مالکان کو قائم شدہ ٹیموں کے مالکان کے مقابلے میں اخراجات پورے کرنے میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے، جس کے باعث سیلری پرس میں کمی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ مالی مشکلات صرف فرنچائزز تک محدود نہیں بلکہ پی سی بی کو بھی واجب الادا رقوم کی وصولی کے مسائل کا سامنا ہے۔ لیگ سے وابستہ بعض فریق اب بھی پی سی بی کے واجبات ادا نہیں کرسکے، جس سے لیگ کے مالی معاملات پر دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔














