ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات پاکستان میں بھی نمایاں ہونے لگے ہیں، جہاں پیٹرول کی قیمت 358 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث شہریوں کے سفری اخراجات میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین نے حکومت سے ایک بار پھر توانائی اور ایندھن کی بچت کے لیے ہفتے میں 2 روز گھر سے کام کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا ہے۔
ملازمین کا مؤقف ہے کہ جب ایک طرف پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور دوسری جانب آمدنی میں اسی تناسب سے اضافہ نہیں ہوا تو روزانہ دفاتر آنے جانے کے اخراجات گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ بن گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت کا کفایت شعاری اور فیول کنزرویشن اقدامات ختم کرنے کا فیصلہ
ان کے مطابق ایسے میں حکومت کو ماضی کی طرح کفایت شعاری اور توانائی کی بچت کے اقدامات کا دوبارہ آغاز کرنا چاہیے۔
پیٹرول کی قیمت میں موجودہ اضافے کا موازنہ اگر رواں برس 9 مارچ کی قیمت سے کیا جائے تو صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہوتی ہے۔ 9 مارچ کو پیٹرول کی قیمت 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی تھی، جبکہ اب قیمت 358 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرچکی ہے۔
اس طرح 9 مارچ کے مقابلے میں پیٹرول کی قیمت میں کم از کم 37 روپے فی لیٹر اضافہ ہوچکا ہے، اس اضافے کا براہ راست اثر ان افراد پر پڑتا ہے جو روزانہ اپنی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں یا پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے دفاتر اور کاروباری مراکز تک سفر کرتے ہیں۔ پیٹرول مہنگا ہونے کے ساتھ ساتھ ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور دیگر روزمرہ ضروریات کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ماضی میں وفاقی حکومت نے ایندھن کی کھپت کم کرنے اور سرکاری وسائل کے استعمال میں کمی لانے کے لیے مختلف کفایت شعاری اقدامات کیے تھے۔
اس مہم کے تحت سرکاری اور نجی دفاتر میں ہفتے کے ایک روز ورک فرام ہوم کی پالیسی اختیار کی گئی تھی، جبکہ سرکاری دفاتر میں عملے کی حاضری اور سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنے سمیت متعدد اقدامات کیے گئے تھے۔
اس کے علاوہ توانائی کی بچت کے لیے ملک بھر میں کاروباری مراکز، مارکیٹوں اور شاپنگ مالز کے اوقات کار میں بھی تبدیلی کی گئی تھی اور دکانیں رات 8 بجے بند کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
حکومت کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ایندھن اور بجلی کی کھپت کم کی جائے، درآمدی بل پر دباؤ کم ہو اور سرکاری و نجی شعبے میں توانائی کے استعمال کو محدود کیا جائے۔
کفایت شعاری کے یہ اقدامات 3 ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہے اور 20 جون کو پیٹرول کی قیمت 299 روپے فی لیٹر ہونے پر یہ اقدامات ختم کردیے گئے تھے تاہم ابھی 358 روپے سے زیادہ قیمت ہونے کے باوجود کفایت شعاری مہم کا اعلان نہیں کیا گیا۔
وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہلے 15 روزہ بنیاد کے بجائے ہفتہ وار اور بعد ازاں روزانہ کی بنیاد پر مقرر کرنے کا نظام متعارف کرایا۔
حکومت نے اس نظام کے وقت مؤقف اختیار کیا تھا کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوگا تو اس کے اثرات پاکستان میں بھی منتقل ہوں گے، جبکہ عالمی قیمتوں میں کمی آنے کی صورت میں عوام کو بھی فوری ریلیف فراہم کیا جائےگا۔
تاہم موجودہ صورتحال میں عوام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کے فوائد انہیں اسی رفتار سے منتقل نہیں ہوئے جس رفتار سے قیمتوں میں اضافہ ان تک پہنچا، جبکہ پیٹرول کی قیمت 358 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرنے کے بعد شہریوں پر سفری اخراجات کا مزید بوجھ پڑ گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں 20 جون 2026 کے مقابلے میں 59 روپے سے زیادہ اضافے کے باوجود اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ماضی جیسی کوئی نئی جامع کفایت شعاری مہم شروع کرنے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
بالخصوص ہفتے میں 3 روز دفتر اور باقی دن گھر سے کام کرنے یا کم از کم 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کی کوئی سرکاری منظوری یا تجویز تاحال سامنے نہیں آئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کرچکی ہے۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔
پیٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد سرکاری اور نجی شعبے کے ملازمین کا کہنا ہے کہ حکومت کو موجودہ صورتحال میں ورک فرام ہوم پالیسی دوبارہ متعارف کرانے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ کے مطابق اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ملازمین کے سفری اخراجات میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے زیادہ تر دفتری امور لیپ ٹاپ، آن لائن رابطوں اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیے جاسکتے ہیں اور اس سے کام کی کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔
محمد جہانزیب بٹ نے بتایا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث ان کے ماہانہ سفری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ آمدنی میں اس تناسب سے اضافہ نہیں ہوا، جس کی وجہ سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق ہفتے میں 2 روز گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ ملازمین اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں انجام دے سکتے ہیں۔
ٹیلی کام سیکٹر سے وابستہ شہزاد خان کے مطابق جدید دور میں بہت سے ایسے کام ہیں جو دفتر میں موجود ہوئے بغیر لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کے ذریعے باآسانی انجام دیے جاسکتے ہیں۔
انہوں نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے مارچ، اپریل اور مئی کے دوران جمعہ کے روز ملازمین کو ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی تھی اور اس دوران کام کا کوئی حرج نہیں ہوا۔
شہزاد خان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اور پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے موجودہ دور میں اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو اس سے انہیں نمایاں مالی سہولت مل سکتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں بحث صرف پیٹرول کی قیمت تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب ایندھن کی قیمت 299 روپے سے بڑھ کر 358 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرچکی ہے تو حکومت کی جانب سے سرکاری و نجی شعبے میں ایندھن کی بچت کے لیے ماضی جیسے اقدامات کیوں نظر نہیں آرہے۔
حکومت کے لیے ورک فرام ہوم، دفتری دنوں میں کمی، سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو محدود کرنا، سرکاری عمارتوں میں توانائی کی بچت اور کاروباری مراکز کے اوقات کار میں مناسب تبدیلی جیسے اقدامات ایک بار پھر زیر غور لانے کا راستہ موجود ہے۔
بالخصوص ایسے سرکاری ملازمین جن کے کام کی نوعیت آن لائن یا دفتری نظام سے منسلک ہے، ان کے لیے ہفتے میں ایک یا دو دن گھر سے کام کی اجازت دینے سے ملازمین کے سفری اخراجات کم ہونے کے ساتھ ساتھ ایندھن کی مجموعی کھپت میں بھی کمی لائی جاسکتی ہے۔
پیٹرول کی قیمت 358 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرنے کے بعد عوام کی نظریں حکومت کی جانب ہیں کہ وہ صرف قیمتوں کے اثرات کو عوام تک منتقل کرنے کے بجائے اپنے اخراجات میں بھی کمی کے لیے عملی اقدامات کرے۔
مزید پڑھیں: کفایت شعاری مہم کے تحت نئی پابندیاں، وفاقی وزرا کا پیٹرول کوٹہ نصف کردیا گیا، اعظم نذیرتارڑ
شہریوں اور ملازمین کا مطالبہ ہے کہ اگر حکومت ماضی میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے دوران ورک فرام ہوم، دفتری اوقات میں تبدیلی اور مارکیٹیں جلد بند کرنے جیسے اقدامات کرسکتی تھی تو موجودہ قیمتوں کے دوران بھی ایک نئی اور مؤثر کفایت شعاری پالیسی تشکیل دی جانی چاہیے۔
یوں پیٹرول کی بڑھتی قیمت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کردیا ہے کہ جب عوام کے لیے ایندھن مہنگا ہوچکا ہے تو کیا حکومت بھی اپنے دفتری اور انتظامی اخراجات کم کرنے کے لیے اسی تناسب سے کفایت شعاری اختیار کرے گی یا نہیں؟













