11 ستمبر کے حملوں کو 25 سال گزرنے کے بعد جب اس وقت امریکیوں کا خوف بیرونی خطرات پر مرکوز تھا اب امریکیوں کو غیر ملکی گروہوں کے حملوں سے زیادہ اندرونی انتہا پسندوں کے حملوں کا خوف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طالبان دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی ترک کریں، ورنہ نائن الیون جیسے حملوں کا خطرہ برقرار رہے گا، سابق پاکستانی سفیر
رائٹرز کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ 28 سے 31 اگست کو کیے گئے اس سروے میں جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ عام امریکیوں کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے تو 33 فیصد نے اندرونی دہشتگردی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جبکہ 20 فیصد نے غیر ملکی دہشتگردی اور 42 فیصد نے بڑے پیمانے پر فائرنگ جیسے تشدد کے واقعات کو سب سے بڑا خطرہ کہا۔
ایک دہائی قبل صورتحال بہت مختلف تھی۔ سنہ 2013 کے وسط میں سروے میں 21 فیصد امریکی اندرونی دہشتگردی کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتے تھے جو غیر ملکی دہشتگردی کو خطرہ کہنے والے 28 فیصد اور تشدد کے واقعات کو خطرہ کہنے والے 51 فیصد سے کم تھا۔
11 ستمبر 2001 کو غیر ملکی القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے ہوائی جہاز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور واشنگٹن کے باہر پینٹاگون سے ٹکرا دیے تھے جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور کئی دہائیوں تک جنگوں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں افغانستان پر امریکی قیادت میں حملہ بھی شامل تھا جہاں القاعدہ کے رہنما موجود تھے۔
اندرونی انتہا پسندی کا خوف
تاہم امریکا نے اندرونی طور پر متاثرہ حملے بھی دیکھے ہیں جن میں سنہ 2016 میں فلوریڈا کے ایک ہم جنس پرست نائٹ کلب میں بڑے پیمانے پر فائرنگ بھی شامل ہے جس میں 49 افراد ہلاک ہوئے اور سیاہ فام، لاطینی یا یہودی امریکیوں پر دیگر حملے بھی ہوئے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خود کئی قاتلانہ حملوں کا سامنا کرنا پڑا جن میں سنہ 2024 میں فائرنگ کا ایک واقعہ بھی شامل ہے جس میں ان کے کان پر زخم آیا اور قدامت پسند کارکن چارلی کرک کو ستمبر 2025 میں یوٹاہ میں یونیورسٹی کے طلبا سے خطاب کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔
تازہ ترین سروے میں جب پوچھا گیا کہ نظریاتی بنیادوں پر ہونے والے حملوں میں سب سے بڑا خطرہ کون ہے تو 61 فیصد نے اندرونی انتہا پسندوں کو اور 34 فیصد نے بیرون ملک سے آنے والوں کو بڑا خطرہ قرار دیا۔
مزید پڑھیے: نائن 11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کا ٹرائل جون 2028 میں شروع ہوگا
سروے میں یہ بھی پایا گیا کہ 11 ستمبر کے حملوں کی میراث اب بھی مضبوط ہے۔ 10 میں سے 6 افراد کا کہنا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ان حملوں کے بارے میں سوچتے ہیں اور تقریباً اتنے ہی افراد کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اور بڑا حملہ ہوا تو وہ فوجی جواب کی حمایت کریں گے۔
لیکن امریکیوں کا کہنا ہے کہ 9/11 کے بعد ہونے والی جنگیں اس نقصان کی اصل تلافی نہیں۔ 48 فیصد نے کہا کہ افغانستان میں جنگ اس کے نقصانات کی تلافی نہیں کرپائیں جبکہ 21 فیصد نے کہا کہ تلافی ہوگئی۔ باقی غیر یقینی تھے یا جواب نہیں دیا۔ عراق میں جنگ بھی اسی طرح غیر مقبول تھی جس میں 51 فیصد نے مخالفت اور 21 فیصد نے حمایت کی۔
ان جنگوں کی عوامی مخالفت نے ٹرمپ کے عروج میں کردار ادا کیا کیونکہ انہوں نے طویل جنگوں سے بچنے کے پلیٹ فارم پر انتخابی مہم چلائی تھی۔
ٹرمپ نے خود 6 ماہ قبل ایران پر جنگ شروع کی تھی جو فوری حل کی کوششوں سے بچتی رہی ہے۔ سروے میں پایا گیا کہ صرف 25 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ یہ تنازع اس قابل تھا جبکہ 54 فیصد کا خیال ہے کہ یہ اس قابل نہیں تھا۔
سیکیورٹی میں اضافے کی حمایت
10 میں سے 6 امریکی جن میں 10 میں سے 8 ریپبلکن شامل ہیں کا خیال ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں پر امریکی حکومت کا ردعمل امریکی سرزمین پر امریکیوں کے خلاف حملوں کو روکنے میں کم از کم کچھ حد تک موثر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان نے افغانستان میں نائن الیون سے بھی زیادہ خطرناک حالات پیدا کر دیے، صدر آصف علی زرداری
دونوں جماعتوں کی اکثریت بشمول 71 فیصد ڈیموکریٹس اور 75 فیصد ریپبلکنز کا خیال ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ہوائی اڈوں پر سیکیورٹی میں جو اضافہ ہوا وہ لوگوں کے سفر میں خلل کے باوجود قابل قدر تھا۔
امریکی حکومت کے زیر انتظام ہوائی اڈوں کی سیکیورٹی کی حمایت کرنے کا رجحان بھی زیادہ ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی اس تجویز کی صرف 23 فیصد نے حمایت کی جس میں وفاقی سیکیورٹی کو نجی ٹھیکیداروں سے تبدیل کیا جائے گا۔ 48 فیصد نے مخالفت کی۔
سنہ 2001 کے بعد اندرونی نگرانی میں توسیع کم مقبول رہی ہے 65 فیصد نے امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو وارنٹ کے بغیر امریکی شہریوں کے الیکٹرانک مواصلات کی نگرانی کی اجازت دینے کی مخالفت کی۔ سنہ 2008 کا ایک قانون جس نے اس کی اجازت دی تھی جون میں ختم ہو گیا حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے اس عمل کو دوبارہ اختیار دینے کے لیے کہا ہے۔
زیادہ تر امریکی 11 ستمبر کو ایک ایسے واقعے کے طور پر دیکھتے ہیں جس نے ملک کو متحد کیا اور 75 فیصد کا خیال ہے کہ اس کا ملک پر بڑا اثر پڑا جوسال 2007-2009 کے مالیاتی بحران کو بڑا اثر سمجھنے والے 41 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھیے: سانحہ نائن الیون کے اثرات 22 برس بیت جانے کے بعد بھی باقی
رائٹرز/اپسوس کا یہ سروے آن لائن کیا گیا جس میں ملک بھر میں 1,167 امریکی بالغوں کی رائے لی گئی جس میں غلطی کی گنجائش 3 سے 6 فیصد کے درمیان ہے۔














