امریکی فوجی عدالت نے نائن 11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور 3 شریک ملزمان کے مقدمے کی سماعت شروع کرنے کے لیے 5 جون 2028 کی تاریخ مقرر کردی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق خالد شیخ محمد اور 3 شریک ملزمان کے خلاف مقدمے کی کارروائی امریکی بحری اڈے گوانتاناموبے میں ہوگی۔ یہ مقدمہ طویل قانونی پیچیدگیوں اور متعدد تنازعات کے باعث کئی برس سے تاخیر کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ورلڈٹریڈ سینٹر پر حملہ آور ملزمان سزائے موت سے کیسے بچے؟
امریکی فوجی جج لیفٹیننٹ کرنل مائیکل اے شراما نے مقدمے کی سماعت کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ شواہد، قانونی معاملات اور امریکی خفیہ ادارے کے زیرِ حراست افراد سے کیے گئے تفتیشی طریقوں سے حاصل بیانات کی قابلِ قبولیت سمیت مختلف معاملات طے کرنے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
خالد شیخ محمد کے ساتھ ولید بن عطاش، علی عبدالعزیز علی اور مصطفیٰ الحوساوی بھی مقدمے کا سامنا کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق مقدمے کی سماعت کے لیے پہلے جنوری 2027 کی تاریخ زیرِ غور تھی، تاہم نئی تاریخ اس سے تقریباً 18 ماہ بعد مقرر کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نائن الیون کے 24 سال: امریکا پر ہوا تاریخی حملہ جس نے دنیا کا رُخ بدل دیا
ملزمان اور استغاثہ کے درمیان سزائے موت سے بچنے کے لیے طے پانے والے معاہدے بھی قانونی اور سیاسی مخالفت کے باعث ختم ہوچکے ہیں۔ ان معاہدوں کے تحت ملزمان کو عمر قید کی سزا قبول کرنا تھی، تاہم بعد میں ان پر عمل درآمد روک دیا گیا۔
گزشتہ ماہ امریکی اپیل عدالت نے خالد شیخ محمد اور دو شریک ملزمان کو ان معاہدوں کے تحت جرم قبول کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔
خالد شیخ محمد کو 11 ستمبر 2001 کے حملوں کی منصوبہ بندی کا مرکزی کردار قرار دیا جاتا ہے۔ ان حملوں میں تقریباً 3 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: سانحہ نائن الیون کے اثرات 22 برس بیت جانے کے بعد بھی باقی
گوانتاناموبے کا حراستی مرکز 2002 میں اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے نائن 11 حملوں کے بعد غیرملکی عسکریت پسندوں کے لیے قائم کیا تھا۔
فوجی عدالت کے حکم کے مطابق مقدمے میں فوجی اہلکاروں پر مشتمل ایک پینل تشکیل دیا جائے گا جو جیوری کے طور پر کارروائی سنے گا۔ پینل کی تشکیل کے بعد مقدمے کے ابتدائی بیانات اور شواہد پیش کرنے کا مرحلہ شروع ہوگا۔














