کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر پر تشدد، 3 ملزمان گرفتار

منگل 8 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صفورا چورنگی کے قریب معمولی ٹریفک حادثے کے بعد کراچی یونیورسٹی کے سیینئر استاد اور ان کے بھتیجے کو مبینہ طور پر پستول کے بٹ سے تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں پولیس نے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

ایسٹ زون کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس زبیر نذیر شیخ کے مطابق متاثرین میں کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی تعلیم کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسر محمد عارف خان ساقی اور ان کے بھتیجے محمد وحید رحمان شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، کراچی یونیورسٹی میں پروفیسرز کی بھرتیوں کا عمل بحال

ایس ایس پی زبیر نذیر شیخ نے بتایا کہ پروفیسر یونیورسٹی جانے کے لیے مرکزی سڑک سے گزر رہے تھے جبکہ ملزمان اپنی گاڑی پیچھے کررہے تھے کہ ان کی گاڑی پروفیسر کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔

پولیس نے پروفیسر کو طبی و قانونی کارروائی کے لیے خط دیا، جس کے بعد سچل تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مار کر تین ملزمان کو گرفتار کرلیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

سچل تھانے کے ایس ایچ او اعجاز پٹھان کے مطابق گرفتار ملزمان بااثر افراد ہیں اور صفورا میں ایک ریسٹورنٹ کے مالک ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے میں ملوث تمام افراد کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت: کراچی یونیورسٹی کی اپیل منظور، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار

ڈاکٹر عارف ساقی کی مدعیت میں درج مقدمے میں ہنگامہ آرائی، مہلک ہتھیار سے مسلح ہوکر ہنگامہ آرائی، غیر قانونی اجتماع کے ہر رکن کو مشترکہ مقصد کے تحت کیے گئے جرم کا ذمہ دار قرار دینے، اقدام قتل اور ناجائز حراست سے متعلق دفعات شامل کی گئی ہیں۔

مقدمے کے مطابق ڈاکٹر عارف ساقی اپنے بھتیجے کے ہمراہ گاڑی میں کراچی یونیورسٹی جارہے تھے۔ تقریباً صبح 10 بج کر 15 منٹ پر صفورا چورنگی کے قریب گرین ہوٹل کے پاس ایک ڈبل کیبن گاڑی نے ان کی گاڑی کو ٹکر ماری، جس سے گاڑی کا اگلا حصہ متاثر ہوا، جبکہ گاڑی میں سوار افراد وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے۔

ڈاکٹر عارف ساقی کے مطابق انہوں نے گاڑی کے نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے دوسری گاڑی میں سوار افراد سے بات کی اور ان سے ان کے نام دریافت کیے۔ اسی دوران ملزمان گاڑی سے اترے اور ان کے بھتیجے کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی یونیورسٹی میں بس کی ٹکر سے طالبہ جاں بحق

مدعی کے مطابق کچھ دیر بعد ملزمان کے مسلح محافظ بھی موقع پر پہنچ گئے اور دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث وہ زخمی ہوکر سڑک پر گر گئے۔

ڈاکٹر عارف ساقی نے الزام عائد کیا کہ بعد ازاں ملزمان انہیں اور ان کے بھتیجے کو زبردستی قریب واقع ایک کھانے کی جگہ پر لے گئے، جہاں دوبارہ تشدد کیا گیا، جس کے بعد ملزمان فرار ہوگئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp