نئے صوبوں کی بحث، وفاقی وزرا کا مؤقف کیا ہے؟

بدھ 9 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ملک میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام کی بحث شدت اختیار کرگئی ہے اور وفاقی وزرا کی جانب سے یکے بعد دیگرے سامنے آنے والے بیانات نے اس معاملے کو قومی سیاسی ایجنڈے میں نمایاں کردیا ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے یا 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کرنے کی تجویز دی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے معاملہ عوام کی رائے پر چھوڑنے پر زور دیا ہے، وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موجودہ صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی حمایت کی ہے، جبکہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے ملک میں 33 صوبوں تک کی تجویز پیش کرتے ہوئے موجودہ ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دینے کی بات کی ہے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی قرار دیا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے مفاد میں ہیں تو ضرور بننے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے موجودہ حکومتی ڈھانچے کو آبادی اور انتظامی ضروریات کے مقابلے میں ناکافی قرار دیتے ہوئے ملک میں 12 سے 15 نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق متبادل کے طور پر 160 بااختیار ضلعی حکومتیں قائم کی جاسکتی ہیں۔

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ بدین سے گھوٹکی تک سندھ کو کراچی سے، رحیم یار خان سے اٹک تک پنجاب کو لاہور سے، ڈی آئی خان سے چترال تک خیبر پختونخوا کو پشاور سے اور وسیع و عریض بلوچستان کوئٹہ سے مؤثر طور پر چلانا مشکل ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نظام عوام کو مطلوبہ انداز میں خدمات فراہم نہیں کر رہا اور انتظامی ڈھانچے میں توازن پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے نئے صوبوں کے معاملے پر جائزہ کمیٹی تشکیل دینے، قومی و سیاسی بحث شروع کرنے اور سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر بھی زور دیا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے معاملے پر سب سے زیادہ دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامی یونٹس بننے چاہئیں یا نہیں، اس کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔

لاہور میں قومی پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کا مقصد تعداد بڑھانا نہیں بلکہ نظام حکمرانی کو بہتر بنانا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نئے اضلاع اور تحصیلیں بن سکتی ہیں تو نئے صوبے یا انتظامی یونٹس کیوں نہیں بن سکتے۔

محسن نقوی نے کہا کہ صوبوں کی بحث زبان، نسل یا برادری کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ بہتر حکمرانی اور عوام کو حکومت کے قریب لانے کے لیے ہونی چاہیے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر مل بیٹھنے اور قومی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی دعوت بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے

ان کا کہنا تھا کہ نوکری پر رہوں یا نہ رہوں، اب پیچھے نہیں ہٹوں گا، تاہم ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ حکومت یا کسی ایک سیاسی جماعت کے بجائے عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے نئے صوبوں کے قیام کی بھرپور حمایت کی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے باعث موجودہ صوبائی ڈھانچے پر نظرثانی وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔

عبدالعلیم خان نے تجویز دی کہ چاروں موجودہ صوبوں کو انتظامی بنیادوں پر نارتھ، سینٹرل اور ساؤتھ کے تین، تین یونٹس میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، جس سے تاریخی اور ثقافتی شناخت بھی برقرار رہے گی۔

بعد ازاں انہوں نے احسن اقبال کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے لسانی یا ثقافتی بنیادوں کے بجائے انتظامی ضرورت، عوامی سہولت اور بہتر حکمرانی کو مدنظر رکھتے ہوئے بننے چاہئیں۔ ان کے مطابق یہ کسی ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ملک اور عوام کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔

عبدالعلیم خان اس سے قبل ہزارہ، جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبوں کی حمایت بھی کرچکے ہیں اور چاروں صوبوں کو متعدد انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کو قابلِ غور قرار دے چکے ہیں۔

وفاقی وزیر صحت اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کے معاملے پر سب سے زیادہ وسیع تر انتظامی تقسیم کی تجویز پیش کی ہے۔

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کے لیے موجودہ ڈویژنز کو صوبوں کا درجہ دیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے ملک میں 33 صوبوں کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کو بھی صوبے کا درجہ ملنا چاہیے۔

ان کے مطابق ملک میں نئی حد بندی کی لازمی ضرورت نہیں، موجودہ انتظامی ڈویژنز کو ہی صوبوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے پنجاب کے 10 اور بلوچستان کے 8 ڈویژنز سمیت دیگر صوبوں کے ڈویژنز کو بھی انتظامی اکائیوں میں تبدیل کرنے کی تجویز دی۔

یہ بھی پڑھیں: متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟

مصطفیٰ کمال کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مسئلہ کسی صوبے کی سرحد یا کسی لسانی شناخت کا نہیں بلکہ اختیارات اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ہے۔ وہ سندھ کو انتظامی بنیادوں پر متعدد حصوں میں تقسیم کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل لسانی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آئین میں نئے صوبوں کی تشکیل کی گنجائش موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر آئینی ترمیم کی جاسکتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس وقت اصل ضرورت بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی نئے صوبوں کے قیام کی اصولی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر نئے صوبے پاکستان کے مفاد اور انتظامی بہتری کے لیے ضروری ہیں تو انہیں ضرور بننا چاہیے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ صوبوں کی تشکیل کا فیصلہ کسی پر زبردستی مسلط نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے تمام سیاسی جماعتوں، صوبوں اور عوام کو بحث میں شریک کرنا اور پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث کے بعد اتفاقِ رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔

ان کے مطابق نئے صوبوں کا مقصد عوام تک وسائل، انتظامی سہولتیں اور حکومتی خدمات زیادہ مؤثر انداز میں پہنچانا ہونا چاہیے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا چھوٹے انتظامی یونٹس کے قیام کی صورت میں آئین ہی واحد راستہ ہے، اور اگر تمام اقدامات آئینی حدود کے اندر رہ کر کیے جائیں تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف بھی نئے صوبوں کے قیام کے حامی بیانات دے چکے ہیں۔ رواں سال جنوری میں انہوں نے کہا تھا کہ نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں اور اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

حالیہ بحث میں خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا مقصد عوام کی بہتر خدمت اور وفاق کو مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اس معاملے پر متفقہ فیصلہ ہوجائے تو سب کو اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

انہوں نے اسلام آباد کو الگ صوبائی حیثیت دینے کی تجویز کو بھی قابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی دارالحکومتوں میں اس نوعیت کا انتظام موجود ہے۔

خواجہ آصف نے پیپلز پارٹی پر صوبوں کے معاملے میں دوہرے معیار کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پنجاب میں سرائیکی صوبے کے مطالبے پر ایک مؤقف اور سندھ کی انتظامی تقسیم کی بحث پر دوسرا مؤقف اختیار کیا جاتا ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور سردار یوسف نے بھی نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے اور ایک قومی کمیشن تشکیل دے کر ہزارہ سمیت نئے صوبوں کے قیام پر غور کیا جائے۔

ان کے مطابق نئے صوبوں کا قیام پاکستان کی ترقی اور بہتر انتظام کے لیے ضروری ہے اور ہزارہ صوبے کا مطالبہ ایک پرانا اور مسلسل موجود مطالبہ ہے۔

وفاقی وزرا کے بیانات سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ انتظامی اصلاحات، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور موجودہ صوبائی ڈھانچے پر نظرثانی کی بحث اب حکومتی سطح پر بھی کھل کر جاری ہے، نئے صوبوں کی بحث وسائل کی تقسیم، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، بہتر طرزِ حکمرانی، عوامی نمائندگی اور وفاق و صوبوں کے درمیان اختیارات کے توازن سے جڑا ایک بڑا سوال بن چکی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp