سپریم کورٹ نے ڈیرہ اسماعیل خان کی زیتون بی بی کو تقریباً نصف صدی بعد وراثتی جائیداد کا حتمی ریلیف دیتے ہوئے 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دے دیا، جبکہ مخالف فریق کی جانب سے نظرثانی کی درخواست خارج کرنے کا حکم واپس لینے کی استدعا بھی مسترد کردی۔
جسٹس منیب اختر، جسٹس ملک شہزاد اور جسٹس صلاح الدین پنہور پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا، جسے جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔
تحریری فیصلے کے مطابق زیتون بی بی کے والد 1976 میں انتقال کر گئے تھے اور انہیں اس وقت سے وراثتی جائیداد سے محروم رکھا گیا۔ سپریم کورٹ نے 2022 میں زیتون بی بی کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس کے خلاف دائر نظرثانی درخواست بھی 2024 میں خارج کردی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:سپریم کورٹ نے ایف بی آر ملازمین کے حق میں سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا
عدالتی فیصلے کے مطابق نظرثانی کیس میں 4 مارچ 2024 کو مخالف فریق کو مشروط التوا دیا گیا، تاہم 12 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت پر دوبارہ التوا کی درخواست کی گئی۔ دوبارہ التوا طلب کرنے پر عدم پیروی کے باعث نظرثانی درخواست خارج کردی گئی۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ اب نظرثانی خارج کرنے کا فیصلہ واپس لینا دراصل 4 مارچ 2024 کا حکم واپس لینے کے مترادف ہوگا، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
عدالت نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی نظام کی بنیاد یقین، نظم و ضبط اور عدالتی احکامات کی حرمت پر ہے۔ عدالتی احکامات کی پابندی ہر صورت لازم ہے اور ان کی سنجیدگی و تقدس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت کی جانب سے دی جانے والی رعایت کو محض رسمی کارروائی سمجھنا افسوسناک ہے۔ فریقین اور وکلا اکثر عدالت کی مہربانی کو صرف ضابطے کی رسمی کارروائی سمجھتے ہیں، حالانکہ عدالتی احکامات کی پابندی اور ان کی حرمت کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے زیتون بی بی کے حق میں 2022 کے فیصلے پر عملدرآمد کا حکم دیتے ہوئے تقریباً 50 سال سے جاری وراثتی حق کے معاملے کو حتمی طور پر نمٹا دیا۔














