سپریم کورٹ نے ایف بی آر افسران و ملازمین کو ہیڈکوارٹر الاؤنس دینے سے متعلق ایف بی آر کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔
سماعت کے دوران ایف بی آر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس دیا جاتا ہے، تاہم ایف بی آر ملازمین کو ایگزیکٹو الاؤنس کے بجائے پیڈ ہیڈکوارٹر الاؤنس دیا گیا ہے۔
ایف بی آر کا موقف تھا کہ ٹائم اسکیل پر ترقی پانے والے ملازمین کو یہ الاؤنس نہیں دیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم کورٹ: عدالتی وقت ضائع کرنے پر ایف بی آر کو 10 ہزار جرمانہ
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مذکورہ الاؤنس کی منظوری وزیر اعظم نے دی تھی، اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ہدایت کی کہ الاؤنس سے متعلق سمری فوری طور پر منگوائی جائے تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔
عدالتی حکم پر دوران سماعت ایف بی آر ہیڈکوارٹر الاؤنس سے متعلق سمری عدالت میں طلب کرلی گئی۔
ایف بی آر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ الاؤنس گریڈ 17 کے افسران کے لیے ہے جبکہ موجودہ درخواست گزار گریڈ 17 کے ملازمین نہیں ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سمری میں ایسی کوئی بات نہیں لکھی گئی، اگر ایف بی آر ٹائم اسکیل ملازمین کو الاؤنس سے علیحدہ کرنا چاہتا ہے تو دوبارہ سمری بھجوائی جائے۔
مزید پڑھیں: ڈیویڈنڈ آمدن پر 35 فیصد ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا، سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیلیں مسترد کردیں
ایف بی آر کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ کیس سروس ٹریبونل کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا، انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ فنانس ڈویژن کو بھی نوٹس جاری کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے ایف بی آر کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا، ایف بی آر کے 40 سے زائد ملازمین نے ٹائم اسکیل کی بنیاد پر ہیڈکوارٹر الاؤنس کے حصول کے لیے درخواستیں دائر کی تھیں، جن پر سروس ٹریبونل نے ملازمین کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے سروس ٹریبونل کے اسی فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے ایف بی آر کی جانب سے دائر اپیلیں مسترد کردیں۔














