سہارنپور میں 120 سال پرانی مسجد کی مسماری کے بعد ملبے سے 1909 اور 1911 کی اینٹیں، قرآنِ پاک کے نسخے، سپارے، ٹوپیاں، جائے نماز اور دیگر مذہبی اشیا ملنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
صحافی، یوٹیوبر اور سیاسی تجزیہ کار صدف آفرین نے مسجد کے مقام سے گفتگو کرتے ہوئے ملبے سے ملنے والی ایک اینٹ دکھائی، جس پر 1909 درج ہے۔ ان کے مطابق ملبے میں ایسی مزید پرانی اینٹیں بھی موجود ہیں جو مسجد کی قدامت کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
صدف آفرین نے بتایا کہ مسجد کے ملبے سے قرآنِ پاک، سپارے، ٹوپیاں، جائے نماز اور امام مسجد کے کپڑے بھی ملے ہیں۔ ان کے مطابق کچھ مذہبی اشیا کو وہیں دفن کیا گیا جبکہ بعض اشیا افراد انہیں اپنے ساتھ لے جا رہے ہیں۔
📍 Facts from the debris of a century-old British-era mosque demolished in Saharanpur. pic.twitter.com/WkIjSFdzbK
— Gabbar (@Gabbar0099) September 9, 2026
موقع پر موجود ایک مسلمان شہری نے مسجد کی مسماری پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر عمارت منہدم کرنا ضروری تھی تو کم از کم مسلمانوں کو قرآنِ پاک اور دیگر مذہبی اشیا نکالنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مسجد کو مبینہ طور پر رات کے وقت منہدم کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔
صدف آفرین کے مطابق مسجد کی مسماری کے بعد مقامی مسلمانوں میں شدید غم و افسوس پایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ملبے سے مسجد کی اینٹیں بطور یادگار اپنے گھروں کو لے جا رہے ہیں جبکہ قرآنِ پاک اور دیگر مذہبی اشیا کو محفوظ کیا جا رہا ہے یا دفن کیا جا رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مسجد کی قدامت سے متعلق تنازع بھی سامنے آیا تھا۔ مسجد کے منتظمین کی جانب سے 1911 کے بجلی کے بل کو مسجد کی پرانی موجودگی کے ثبوت کے طور پر پیش کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا، تاہم اسے تسلیم نہ کیے جانے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت: 185 سال پرانی مسجد کا ایک حصہ منہدم کردیا گیا
مسجد کی مسماری کے بعد ملبے سے ملنے والی پرانی اینٹوں اور مذہبی اشیا نے عمارت کی تاریخ اور قدامت سے متعلق بحث کو دوبارہ زندہ کردیا ہے، جبکہ بھارت میں مسلمان حلقوں کی جانب سے واقعے پر غم و افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔














