مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کی دنیا میں نئی امیدیں پیدا کی ہیں، وہیں اس کے ممکنہ خطرات پر تشویش بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک کے محقق جیکب کوکسن نے اسی تشویش کے باعث کمپنی سے استعفیٰ دیدیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اے آئی لیبارٹریاں ایسے نظام تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں جو آنے والے برسوں میں انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی کے ہاتھوں انسانیت کے خاتمے کے کتنے فیصد امکانات ہیں، ماہرین کے اندازے
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق کوکسن کا استعفیٰ اینتھروپک کے کسی ملازم کی جانب سے اے آئی سیفٹی سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کمپنی چھوڑنے کی ابتدائی مثالوں میں سے ایک ہے۔
کوکسن نے گزشتہ 3 برس کے دوران اوپن اے آئی اور اینتھروپک میں اے آئی ماڈلز کی تربیت اور پری ٹریننگ سے متعلق تحقیق پر کام کیا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کوکسن نے کہا کہ دونوں کمپنیاں ذمہ دارانہ انداز میں کام نہیں کر رہیں بلکہ خود کو بہتر بنانے والی ’سپر انٹیلیجنس‘ تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
Jacob Coxon has resigned from tech firm Anthropic after three years in service, citing AI safety concerns. Alignment Lead at Anthropic Evan Hubinger confirms he sees a “greater than 10%” risk that AI could kill us all this decade.
Link in Comment Section to read full story… pic.twitter.com/EcgpC3AeeB
— NewsGram.com (@NewsGramHQ) September 9, 2026
کوکسن کے بقول اس دوڑ میں انسانی زندگی کو غیر معمولی خطرات سے دوچار کیا جا رہا ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ اے آئی کی صلاحیتوں کو کم سمجھنا خطرناک ہوگا۔
ان کے مطابق مستقبل قریب میں ایسے نظام سامنے آسکتے ہیں جو انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین اور طاقتور ہوں گے، سائبر نظاموں میں مداخلت، مختلف شعبوں میں اچانک انقلابی تبدیلی اور حقیقی دنیا میں طاقت و وسائل حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اے آئی تیار کرنے والے متعدد محققین اور اعلیٰ عہدیدار نجی طور پر اس خدشے کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی رواں دہائی کے اختتام تک انسانیت کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، برنی سینڈرز کی وارننگ
ان کا کہنا تھا کہ اینتھروپک میں اے آئی کے خطرات کو سمجھا جاتا ہے، لیکن کمپنی اس خدشے کے باوجود دوڑ سے باہر نہیں نکل رہی کیونکہ اسے اندیشہ ہے کہ دوسری کمپنیاں کم ذمہ داری کے ساتھ یہ کام آگے بڑھا سکتی ہیں۔
کوکسن نے اے آئی محققین پر زور دیا کہ وہ ترقی کی رفتار پر نظرثانی کریں اور ایسے ماڈلز کی تربیت شروع کرنے سے پہلے ان کے ممکنہ رویوں اور خطرات کو سمجھنے کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات اختیار کریں۔
رپورٹ کے مطابق کوکسن ان ایک ہزار سے زائد اے آئی محققین میں بھی شامل ہیں جنہوں نے عالمی حکومتوں کے درمیان تعاون اور ضرورت پڑنے پر اے آئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے کے لیے مؤثر نظام تشکیل دینے کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔














