مصنوعی ذہانت انسانیت کے وجود کے لیے خطرہ بن سکتی ہے، برنی سینڈرز کی وارننگ

اتوار 26 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور اس پر فوری عالمی و سیاسی سطح پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف

سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے طویل بیان میں معروف اے آئی ماہرین کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سائنسدانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے باعث انسانی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

انہوں نے نوبیل انعام یافتہ اور اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ کہلانے والے جیوفری ہنٹن کے اس مؤقف کا ذکر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کے ختم ہونے کے امکانات 10 سے 20 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔ سینڈرز نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے خدشے کے باوجود امریکی کانگریس میں اس پر باضابطہ اور سنجیدہ بحث کیوں نہیں ہو رہی۔

اپنے بیان میں انہوں نے معروف سائنسدان یوشوا بینجیو کے انتباہات بھی شامل کیے، جن کے مطابق محققین ایک ایسے نظام کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں جس کے مستقبل کے اثرات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں اور یہ انسانی مفادات کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔

سینڈرز نے 2023 میں شائع ہونے والے اس کھلے خط کا بھی حوالہ دیا جس پر 1000 سے زائد اے آئی ماہرین، بشمول ایلون مسک نے دستخط کیے تھے، جس میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا انسانیت کو ایسی مشینوں کی اجازت دینی چاہیے جو انسانوں سے زیادہ ذہین اور غالب ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں:کیا اے آئی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں نہ تو کوئی عالمی معاہدہ ہوا، نہ ہی امریکی کانگریس میں کوئی جامع بحث سامنے آئی، اور نہ ہی ترقی کی رفتار کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔

سینڈرز کے مطابق وہ اس مسئلے کو صرف سائنسی یا نظریاتی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے عملی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں ملازمتوں کا خاتمہ، بچوں کی ذہنی و سماجی نشوونما پر اثرات، اور پرائیویسی کے بڑھتے ہوئے مسائل شامل ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ امریکی کانگریس میں معروف اے آئی ماہرین کو طلب کریں گے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر تفصیلی بحث کی جا سکے۔

اس کے علاوہ سینڈرز نے ایک نئی قانون سازی کی بھی حمایت کی ہے جس میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی کی تجویز شامل ہے، جب تک حفاظتی ضوابط مکمل طور پر تیار نہ کر لیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نوجوانوں کی مزاحمت نے مودی کو ’جن زی‘ بننے پر مجبور کردیا، سوشل میڈیا مہم مذاق بن گئی،برطانوی میڈیاکی رپورٹ

ایلون مسک نے مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے عالمی نظامِ صحت میں انقلابی تبدیلی کی پیش گوئی کردی

الاسکا میں امریکی فضائیہ کے ریڈار مرکز کے قریب طیارہ تباہ، 8 افراد ہلاک

نواز شریف کا لاہور کے مختلف علاقوں کا دورہ، ترقیاتی کاموں اور تزئین و آرائش کا جائزہ

ایران جنگ میں نیا محاذ، ٹرمپ کا آبنائے ہرمز پر امریکی ملکیت کا دعویٰ، تہران کا سخت جواب

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘