امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) مستقبل میں انسانیت کے وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور اس پر فوری عالمی و سیاسی سطح پر سنجیدہ بحث ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سپر ایپ کے تصور کی جانب بڑا قدم: اوپن اے آئی کا جی پی ٹی 5.5 ماڈل متعارف
سینڈرز نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے طویل بیان میں معروف اے آئی ماہرین کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض سائنسدانوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے باعث انسانی تہذیب کے خاتمے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے نوبیل انعام یافتہ اور اے آئی کے ’گاڈ فادر‘ کہلانے والے جیوفری ہنٹن کے اس مؤقف کا ذکر کیا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے انسانیت کے ختم ہونے کے امکانات 10 سے 20 فیصد تک ہو سکتے ہیں۔ سینڈرز نے سوال اٹھایا کہ اتنے بڑے خدشے کے باوجود امریکی کانگریس میں اس پر باضابطہ اور سنجیدہ بحث کیوں نہیں ہو رہی۔

اپنے بیان میں انہوں نے معروف سائنسدان یوشوا بینجیو کے انتباہات بھی شامل کیے، جن کے مطابق محققین ایک ایسے نظام کے ساتھ تجربات کر رہے ہیں جس کے مستقبل کے اثرات مکمل طور پر واضح نہیں ہیں اور یہ انسانی مفادات کے خلاف بھی جا سکتا ہے۔
سینڈرز نے 2023 میں شائع ہونے والے اس کھلے خط کا بھی حوالہ دیا جس پر 1000 سے زائد اے آئی ماہرین، بشمول ایلون مسک نے دستخط کیے تھے، جس میں سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا انسانیت کو ایسی مشینوں کی اجازت دینی چاہیے جو انسانوں سے زیادہ ذہین اور غالب ہو جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:کیا اے آئی جمہوری نظام کے لیے بھی خطرہ ثابت ہوسکتی ہے؟
انہوں نے کہا کہ ان خدشات کے باوجود گزشتہ چند برسوں میں نہ تو کوئی عالمی معاہدہ ہوا، نہ ہی امریکی کانگریس میں کوئی جامع بحث سامنے آئی، اور نہ ہی ترقی کی رفتار کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھایا گیا۔
سینڈرز کے مطابق وہ اس مسئلے کو صرف سائنسی یا نظریاتی خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ اس کے عملی اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں، جن میں ملازمتوں کا خاتمہ، بچوں کی ذہنی و سماجی نشوونما پر اثرات، اور پرائیویسی کے بڑھتے ہوئے مسائل شامل ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ امریکی کانگریس میں معروف اے آئی ماہرین کو طلب کریں گے تاکہ اس ٹیکنالوجی کے خطرات پر تفصیلی بحث کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سینڈرز نے ایک نئی قانون سازی کی بھی حمایت کی ہے جس میں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر عارضی پابندی کی تجویز شامل ہے، جب تک حفاظتی ضوابط مکمل طور پر تیار نہ کر لیے جائیں۔













