لبلبے کے پھیل چکے کینسر میں مبتلا مریضوں کے لیے ایک نئی دوا نے علاج کے شعبے میں امید پیدا کردی ہے۔ امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ’راسونکیو‘ نامی دوا کی منظوری دے دی ہے، جسے روزانہ ایک گولی کی صورت میں استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ دوا RAS نامی پروٹین کو نشانہ بناتی ہے، جو لبلبے کے کینسر میں رسولی کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایف ڈی اے کے مطابق دوا کی منظوری ان بالغ مریضوں کے لیے دی گئی ہے جن کا کینسر جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل چکا ہو اور وہ پہلے کم از کم ایک نظامی علاج حاصل کرچکے ہوں یا متعدد ادویات پر مشتمل علاج کے لیے موزوں نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھیں:کینسر کی خبر ملی تو لگا موت قریب ہے، منیشا کوئرالا کا انکشاف
تقریباً 500 مریضوں پر کیے گئے کلینیکل ٹرائل میں نئی دوا استعمال کرنے والے مریضوں کی اوسط مجموعی بقا 13.2 ماہ رہی، جبکہ معیاری کیموتھراپی حاصل کرنے والے مریضوں میں یہ مدت 6.7 ماہ تھی۔ یوں نئی دوا استعمال کرنے والے مریضوں میں اوسط بقا تقریباً دوگنی رہی۔
ایف ڈی اے کے مطابق لبلبے کا کینسر اکثر اس وقت تشخیص ہوتا ہے جب بیماری کافی حد تک پھیل چکی ہوتی ہے، جس کے باعث اس کا علاج طویل عرصے سے مشکل سمجھا جاتا ہے۔
تاہم نئی دوا کے استعمال سے بعض مضر اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں، جن میں متلی، تھکن، اسہال، منہ میں سوزش، بھوک میں کمی اور پیٹ میں درد شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق نئی دوا کی منظوری لبلبے کے پھیل چکے کینسر کے ایسے مریضوں کے لیے علاج کے اضافی آپشن کی راہ ہموار کرتی ہے جن کے لیے موجودہ علاج مؤثر ثابت نہیں ہوئے یا جو روایتی کیموتھراپی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔














