برمنگھم میں کھیلے جا رہے پاک انگلینڈ ٹیسٹ سیریز کے تیسری اور آخری میچ کے پہلے روز کے کھیل کے اختتام پر پاکستان کے 133 رنز کے جواب میں انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں 39 اوورز کے کھیل کے بعد 4 وکٹوں کے نقصان پر 156 رنز بنا لیے ہیں۔
انگلش ٹیم کی جانب سے ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے نصف سنچریاں اسکور کیں۔
انگلینڈ کی اننگز کا آغاز اچھا نہ رہا اور محض 12 کے مجموعی اسکور پر اوپنر بین ڈکٹ 11 رنز بنا کر محمد علی کی گیند پر بابر اعظم کو کیچ دے بیٹھے۔
اس کے بعد آنے والے بلے باز جارڈن کاکس بھی کچھ خاص نہ کر سکے اور صرف 4 رنز بنا کر محمد عباس کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں:انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
انگلش کپتان جو روٹ بھی دباؤ میں نظر آئے اور 8 رنز کے انفرادی اسکور پر رضا اللہ کا شکار بنے۔ ایک موقع پر انگلینڈ کی ٹیم 39 رنز پر اپنی 3 اہم وکٹیں گنوا چکی تھی۔
ایمیلیو گے اور ہیری بروک کی شاندار شراکت
ابتدائی نقصان کے بعد ایمیلیو گے اور ہیری بروک نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالا۔ دونوں کے درمیان 104 رنز کی شاندار شراکت قائم ہوئی۔
ایمیلیو گے نے 114 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 9 چوکوں کی مدد سے 60 رنز کی شاندار اننگز کھیلی، تاہم وہ 143 کے مجموعی اسکور پر رضا اللہ کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے۔
اس وقت کریز پر ہیری بروک 52 اور ڈین لارنس 5 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں اور انگلینڈ کا رن ریٹ 4.00 فی اوور ہے۔
پاکستانی باؤلرز کی کارکردگی
پاکستان کی جانب سے رضا اللہ سب سے کامیاب باؤلر رہے جنہوں نے 9 اوورز میں 42 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں (جو روٹ اور ایمیلیو گے) حاصل کیں۔
دیگر باؤلرز کی کارکردگی بھی قدرے بہتر رہی محمد عباس نے 14 اوورز میں 37 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی۔محمد علی نے 10 اوورز میں 49 رنز دے کر 1 وکٹ حاصل کی۔
پاکستانی باؤلرز نے اب تک مجموعی طور پر 16 ایکسٹرا رنز بھی دیے ہیں جن میں 5 بائی، 5 لیگ بائی، 5 نو بالز اور 1 وائیڈ شامل ہے۔
اس سے قبل برمنگھم ایجبسٹن گراؤنڈ میں کھیلے جا رہے تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن انگلش فاسٹ باؤلرز کی تباہ کن باؤلنگ کے باعث پوری پاکستانی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں محض ‘133’ رنز پر پویلین لوٹ گئی۔۔
مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل کی معمولی مذاحمت کے سوا کوئی بھی پاکستانی کھلاڑی انگلش پیس بیٹری کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔
جوش ٹنگ، اولی رابنسن اور جوفرا آرچر پر مشتمل انگلینڈ کے خطرناک پیس اٹیک نے پاکستانی بیٹنگ لائن کے پرخچے اڑا دیے۔
ایجبسٹن کی پچ پر انگلش کپتان نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی، جو ان کے باؤلرز نے بالکل درست ثابت کر دکھائی۔
جوش ٹنگ نے شاندار باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 10 اوورز میں 42 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کیں۔
دوسری جانب جوفرا آرچر نے 7.5 اوورز میں 25 رنز کے عوض ‘3’ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جبکہ اولی رابنسن کے حصے میں بھی 3 وکٹیں آئیں۔
ٹاپ آرڈر کی مکمل ناکامی
اننگز کے آغاز ہی سے پاکستانی بلے باز دباؤ کا شکار نظر آئے۔ تیسرے ہی اوور میں اوپنر صائم ایوب ’10’ گیندوں کا سامنا کرنے کے بعد بغیر کوئی رن بنائے اولی رابنسن کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔
ان کے ساتھی اوپنر اذان اویس بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے اور 20 گیندوں پر 9 رنز بنا کر جوفرا آرچر کا شکار بنے، جس سے 5.5 اوورز میں ٹیم کا سکور 14 رنز پر 2 آؤٹ ہو گیا۔
وکٹیں گرنے کا یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ عبداللہ شفیق 16 گیندوں پر 3 ور سابق کپتان شان مسعود 7 گیندوں پر صرف 5 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس سے ٹیم کا مجموعی سکور 28 رنز پر 4 کھلاڑی آؤٹ ہو گیا۔
15 ویں اوور میں کپتان بابر اعظم بھی محض 7 رنز بنا کر جوش ٹنگ کی گیند پر کلین بولڈ ہو گئے، یوں آدھی ٹیم صرف 48 نز پر پویلین لوٹ گئی۔
ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے کڑا امتحان
اس میچ میں ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے وکٹ کیپر بلے باز غازی غوری نے اپنی پہلی ہی گیند پر چوکا لگا کر کھاتہ کھولا، لیکن وہ 5 گیندوں پر رنز 4 بنا کر جوش ٹنگ کا شکار بن گئے۔
مزید پڑھیں:ہیڈنگلے ٹیسٹ پر بارش کا خطرہ، پاکستان اور انگلینڈ کل پہلے میچ میں آمنے سامنے
ایک اور ڈیبیو کرنے والے کھلاڑی عمران رندھاوا بھی کوئی خاص کارکردگی نہ دکھا سکے اور ٹنگ کی تیسری وکٹ بنے، جس کے نتیجے میں 20.4 اوورز کے بعد پاکستان کا سکور 7 وکٹوں کے نقصان پر 84 رنز ہو گیا۔
سعود شکیل کی مزاحمت اور ٹیل اینڈرز کا اختتام
لنچ کے وقفے کے بعد پاکستانی ٹیم نے اپنی نامکمل اننگز 100 رنز 7 کھلاڑی آؤٹ سے دوبارہ شروع کی۔ مڈل آرڈر بلے باز سعود شکیل اور نویں نمبر پر آنے والے رضا اللہ نے اننگز کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
ولی رابنسن نے وقفے کے بعد تیسری ہی گیند پر رضا اللہ کو آؤٹ کر دیا، جنہوں نے 11 گیندوں پر 11 رنز بنائے تھے۔
سعود شکیل نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور 47 گیندوں پر 7 چوکوں کی مدد سے 43 رنز کی جرات مندانہ اننگز کھیلی۔ وہ جوش ٹنگ کی گیند پر بولڈ ہونے والے نویں کھلاڑی تھے۔
آخر میں محمد عباس نے 36 گیندوں پر 21 رنز بنا کر کچھ مزاحمت کی، لیکن جوفرا آرچر نے ان کی اننگز کا بھی خاتمہ کر دیا۔
یوں پوری پاکستانی ٹیم 33.5 اوورز میں 133 رنز پر ڈھیر ہو گئی اور آخری تین وکٹیں سکور بورڈ میں صرف 33 رنز کا اضافہ کر سکیں۔
انگلینڈ کی سرزمین پر پاکستانی بلے بازوں کی تکنیکی خامیاں ہمیشہ سے ایک چیلنج رہی ہیں، تاہم تیسرے ٹیسٹ کی اس پہلی اننگز نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ سیم اور سوئنگ کنڈیشنز میں پاکستانی ٹاپ آرڈر کس قدر مشکلات کا شکار رہتا ہے۔
گیند کو میرٹ پر کھیلنے کے بجائے تکنیکی غلطیوں نے مڈل آرڈر پر غیر معمولی دباؤ ڈالا۔ اب اس میچ میں واپسی کے لیے پاکستانی باؤلرز کو اپنی شاندار کارکردگی سے جواب دینا ہو گا، بصورت دیگر میچ کے پہلے ہی دن انگلینڈ کی پوزیشن انتہائی مستحکم ہو چکی ہے۔














