سینیئر صحافی عبدالرحمان حیات نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ معاہدہ کسی ملک، قوم یا کمیونٹی کے خلاف جارحانہ اتحاد نہیں بلکہ خطے میں امن و سلامتی برقرار رکھنے اور مشترکہ دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کی اہم ترین شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملے کو باقی دو ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ معاہدہ، نئے امکانات
وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے عرب میڈیا سے گزشتہ 25 سال سے وابستہ سینیئر صحافی عبدالرحمان حیات نے کہا کہ مکہ معاہدے کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف دفاع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سرمایہ کاری، زراعت، تیل و گیس، آئی ٹی، میڈیا اور دیگر شعبوں میں بھی تعاون مزید بڑھے گا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے وژن 2030 کے تحت پاکستانیوں کے لیے مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی، آئی ٹی اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع پیدا ہورہے ہیں اور سعودی حکومت کا رجحان پاکستانی افرادی قوت کو ترجیح دینے کی طرف ہے۔
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کو مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا، ’بس آپ یہ کہہ لیں کہ یک جاں دو قالب ہیں‘۔
مکہ معاہدہ کیوں ضروری ہوا؟
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ خطے کے عوام کو ترقی کرنی ہے اور ترقی امن کے بغیر ممکن نہیں، جبکہ امن برقرار رکھنے کے لیے مضبوط دفاع ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس معاہدے کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی جارحانہ عزائم ہیں یا یہ کسی ملک کے خلاف ہے مگر امن برقرار رکھنے کے لیے دفاع مضبوط ہونا ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے ایک مرتبہ پھر خطے اور مسلم امہ کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی اعتبار سے انتہائی مضبوط ممالک ہیں۔ سعودی عرب کے پاس جدید ٹیکنالوجی موجود ہے، پاکستان کے پاس مضبوط فوج، ایٹمی قوت اور ٹیکنالوجی ہے جبکہ ترکیہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیار بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ان کے مطابق یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی دفاعی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اور ان کا اتحاد دوسرے علاقائی ممالک کے لیے بھی طاقت کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کی جانب سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ مستقبل میں دوسرے ممالک بھی اس معاہدے میں شامل ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے جارحانہ عزائم نہ ہوں، ان کا کوئی خفیہ ایجنڈا نہ ہو اور وہ امن و سلامتی چاہتے ہوں۔
عبدالرحمان حیات کے مطابق بنگلہ دیش بھی اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے جبکہ مصر اور صومالیہ سمیت کئی ممالک بھی اس میں شمولیت کے خواہشمند ہیں۔
ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ مکہ معاہدے کی ایک اہم شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر حملہ باقی دونوں ممالک پر بھی حملہ تصور ہوگا۔
ان کے مطابق یہ شق نیٹو معاہدے کی 5ویں شق سے مماثلت رکھتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جس ملک پر حملہ ہوگا، جب وہ دوسرے ممالک سے مدد طلب کرے گا تو یہ شق فعال ہوگی۔
سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اب تک تحمل کا مظاہرہ کر رہا ہے اور حوثی ایسی بڑی طاقت نہیں کہ سعودی عرب ان کے خطرے سے نمٹ نہ سکے۔
مزید پڑھیے: حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ابھی تک پاکستان یا ترکیہ سے یہ درخواست نہیں کی کہ وہ اس کے ساتھ عملی طور پر آ کر کھڑے ہوں۔
ان کے مطابق اگر کوئی بڑی جنگ یا بڑا خطرہ پیدا ہوتا ہے تو تینوں ممالک میں سے متاثرہ ملک دوسرے ممالک سے مدد کی درخواست کر سکتا ہے اور اس صورت میں متعلقہ شق فعال ہوگی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان سے متعلق انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کا بیان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ٹوئٹ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اس معاہدے کا پابند ہے اور جب بھی سعودی عرب پاکستان سے اپنے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے کہے گا تو پاکستان مکہ معاہدے کی پاسداری کرے گا۔
سعودی عرب کا امن کے لیے کردار
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ سعودی عرب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کا کوئی ’ہیڈن ایجنڈا‘ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک بظاہر دوست ہوتے ہیں لیکن دوسرے ممالک میں جا کر اپنے مفادات کے لیے مختلف راستے اختیار کرتے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب حرمین شریفین کی وجہ سے مسلم امہ کا مرکز ہے اور اس نے مسلمان اور غیر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات میں ہمیشہ امن و سلامتی کے لیے قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی اقدام بھی اسی کردار کا تسلسل ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق معاہدے کا محتاج نہیں
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلق صرف کسی دفاعی معاہدے کی وجہ سے قائم نہیں ہوا بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان انتہائی گہری مذہبی اور جذباتی وابستگی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی دن میں 5 وقت نماز ادا کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب رخ کرتے ہیں کیونکہ خانہ کعبہ مکہ مکرمہ میں موجود ہے۔ حج، عمرہ اور مسجد نبوی سے بھی پاکستانیوں کے دل جڑے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستانیوں کی سعودی عرب کے ساتھ عقیدت اور محبت کا یہ صرف ایک پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کے بعد جب بھی پاکستان پر مشکل وقت آیا اور دوسرے ممالک نے اس کا ساتھ چھوڑا، سعودی عرب نے پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑا۔
انہوں نے پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد لگنے والی پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں بھی کئی ممالک پاکستان سے دور ہوگئے تھے لیکن سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں بھی جب پاکستان کو کسی آفت کا سامنا کرنا پڑا تو سعودی عرب ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں 20 لاکھ سے زیادہ پاکستانی رہتے ہیں اور ان کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی رقوم پاکستانی معیشت کو سہارا دیتی ہیں۔
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ سعودی عرب کا ذکر آتے ہی پاکستانیوں کی آنکھیں جذبات سے بھر جاتی ہیں اور اس سرزمین کے ساتھ پاکستانیوں کی بے انتہا محبت اور عقیدت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی سرزمین کا دفاع پاکستانیوں کے لیے کسی معاہدے کے بغیر بھی اعزاز ہے اور ان کے خیال میں حرمین شریفین کو کسی قسم کا خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود مسلمان کے لیے ان کے دفاع میں کھڑا ہونا فرض ہے۔
سعودی وژن 2030 نے ملک کو بدل دیا
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے وژن 2030 کے بعد سعودی عرب میں بہت زیادہ جدت آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں میں سعودی عرب دنیا کے صف اول کے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔
انہوں نے پاکستان کی وزیر شزہ فاطمہ کے سعودی عرب کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی سے مستفید ہونا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق سعودی عرب نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے حکمرانی اور روزمرہ زندگی کے مختلف معاملات میں بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں اور پاکستان بھی اس تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
عبدالرحمان حیات کے مطابق وژن 2030 کے تحت سعودی عرب میں بڑی تعداد میں نئے منصوبے شروع ہورہے ہیں جن میں روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت کا رجحان پاکستانیوں کو زیادہ ترجیح دینے کی طرف ہے اور مختلف شعبوں میں پاکستانیوں کے لیے بہت سے مواقع موجود ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی پہلے بھی سعودی عرب جا رہے ہیں اور مستقبل میں بھی جا سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک ٹیکنالوجی کے درست استعمال اور ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پاکستانیوں کے لیے اے آئی اور سائبر سیکیورٹی میں مواقع
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ سعودی وژن 2030 کے تحت بڑی تعداد میں ایسے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں جن کا تعلق جدید ٹیکنالوجی سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں میں آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے گوگل کے پاکستان میں دفتر کھولنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی کمپنیوں کو بھی پاکستانیوں میں یہ صلاحیت نظر آرہی ہے کہ وہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت میں تخلیقی کام کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانیوں کے لیے مصنوعی ذہانت، سائبر سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی سے متعلق دیگر شعبوں میں بڑی تعداد میں منصوبے موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی کوشش ہوگی کہ ان مواقع میں پاکستانیوں کو پہلا موقع دیا جائے۔
عبدالرحمان حیات نے پاکستانی افرادی قوت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی محنتی اور کامیاب قوم ہیں، ان کا رویہ بھی اچھا ہے اور وہ جہاں بھی کام کرتے ہیں وہاں اپنی صلاحیت ثابت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں میں پوٹینشل بھی ہے، وہ تخلیقی بھی ہیں اور اخلاقی اعتبار سے بھی اچھے ہیں، اسی وجہ سے انہیں پسند کیا جاتا ہے۔
دفاع سے آگے معاشی تعاون
عبدالرحمان حیات نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مکہ معاہدے کے اثرات صرف دفاع اور سیکیورٹی تک محدود نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے تعلقات پہلے ہی اسٹریٹجک اور تزویراتی نوعیت کے ہیں اور یہ صرف دفاعی یا سیکیورٹی معاملات تک محدود نہیں۔
ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات اور پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات بہت پرانے ہیں اور مختلف شعبوں کا احاطہ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعلقات معاہدے سے پہلے بھی موجود تھے تاہم مکہ معاہدے کے بعد مزید معاملات واضح اور مضبوط ہوں گے۔
عبدالرحمان حیات نے کہا کہ سعودی عرب پہلے ہی پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور مستقبل میں مزید سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ان کے مطابق زراعت، تیل و گیس، آئی ٹی اور میڈیا سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے مواقع موجود ہیں اور آنے والے مہینوں میں سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مزید معاہدے سامنے آئیں گے۔
سعودی عوام پاکستان کو کیسے دیکھتے ہیں؟
پاکستانی قیادت اور دونوں ممالک کے تعلقات سے متعلق عبدالرحمان حیات نے کہا کہ جس طرح پاکستانیوں کے دل سعودی عرب کے ساتھ دھڑکتے ہیں، اسی طرح سعودی عوام بھی پاکستانیوں کو دوسرے ممالک کے لوگوں سے مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عوام کو یقین ہے کہ پاکستان ایک ایسی قوم ہے جو ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔
ان کے مطابق سعودی عوام سمجھتے ہیں کہ پاکستانی صرف بات نہیں کرتے بلکہ جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھاتے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدہ ابھی حال ہی میں سائن ہوا ہے لیکن پاکستانی افواج اور پاکستان کے دفاعی طیارے اس معاہدے سے پہلے بھی سعودی عرب میں موجود تھے۔
ان کے مطابق پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ ہر مشکل وقت میں کھڑا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا ’مکہ دفاعی معاہدہ‘ بڑا، جرات مندانہ اور پہلا اہم قدم ہے: ٹرمپ
انہوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلق کو ’دل سے دل والا تعلق‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دوستی کسی ایک معاہدے کی مرہون منت نہیں۔













