9 مئی، 26 نومبر، ڈی چوک توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملوں جیسے سنگین مقدمات میں ملوث ریاست کے مجرم اب قانون کے شکنجے میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
حماد اظہر کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے مزید متعدد مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کی جیل جانے کی تیاری مکمل ہو چکی ہے، جن کی نامزدگی پر مبنی ایف آئی آرز بھی منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان سنگین واقعات میں ملوث پی ٹی آئی کے متعدد سرکردہ رہنماؤں کی گرفتاری کے لیے گھیرا تنگ کر دیا ہے۔ جن رہنماؤں کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے ان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، شبلی فراز، مینا خان آفریدی، جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد علی سمیت کئی بڑے نام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کب سے اشتہاری تھے، اب کیسے گرفتار ہوئے؟
قانون نافذ کرنے والے حکام کے مطابق ریاستی املاک کو نقصان پہنچانے، امن و امان کی صورتِ حال خراب کرنے اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث کسی بھی عنصر کے ساتھ رعایت نہیں برتی جائے گی اور جلد تمام نامزد ملزمان کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا جائے گا۔














