سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کب سے اشتہاری تھے، اب کیسے گرفتار ہوئے؟

پیر 7 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وفاقی وزیر حماد اظہر ملتان کینٹ میں اپنے سسرال جا رہے تھے۔ چیک پوسٹ پر شناختی کارڈ مانگا گیا جب آئی ڈی کارڈ کو سکین کیا گیا تو پتا چلا کہ یہ شخص اشتہاری ہے۔ وہاں اشتہاری ہونے کی وجہ سے حماد اظہر کی پہچان ہو گئی اور انہیں موقع پر حراست میں لے لیا گیا۔

بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوئے، لاہور میں جی او آر گیٹ اور کلب چوک پر تشدد کے مقدمات درج ہوئے۔ حماد اظہر ان واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں نامزد ہوئے۔ اس کے بعد وہ طویل عرصے روپوش رہے۔

یہ بھی پڑھیں: طویل عرصے سے روپوش حماد اظہر گرفتار، لاہور پولیس کے حوالے

پنجاب پولیس کا موقف یہی رہا کہ وہ اشتہاری ہیں اور گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، پی ٹی آئی نے نومئی کے بعد احتجاج، جلسے جلوس کیے مگر حماد اظہر کبھی ان مظاہروں میں سامنے نہیں آئے۔

پشاور ہائی کورٹ سے متعدد مقدمات میں راہداری ضمانت حاصل کی۔ اگست 2024 میں پی ٹی آئی پنجاب کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفے کی وجہ عمران خان تک رسائی نہ ہونا اور نقل و حرکت پر پابندیاں بتائی گئیں۔ اس کے بعد بھی وہ مکمل طور پر کھلے عام سیاسی سرگرمیوں میں نہیں نکلے۔

جولائی 2025 میں والد میاں محمد اظہر کے انتقال پر وہ مختصر عرصے کے لیے سامنے آئے۔ جنازے اور تعزیت کے بعد دوبارہ روپوش ہو گئے۔ نومبر 2025 میں پارٹی کی جانب سے ان کا ریکارڈ شدہ بیان جاری ہوا۔ این اے 129 لاہور کے ضمنی انتخاب میں بھی وہ پسِ پردہ سرگرم رہے۔ سوشل میڈیا پر بھی ضمنی الیکشن کی کمپین کرتے ہوئے نظر آئے۔

جنوری 2026 میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی او آر گیٹ کیس میں مسلسل غیر حاضری پر حماد اظہر سمیت سات ملزمان کو اشتہاری قرار دیا اور دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس حملہ کیس: پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

مارچ 2026 میں جی ایچ کیو حملہ کیس میں کچھ اشتہاری ملزمان کو غیر موجودگی میں دس دس سال قید کی سزائیں بھی سنائی گئیں۔ حماد اظہر نے لاہور اور پشاور ہائی کورٹس سے حفاظتی ضمانت کے لیے بھی رجوع کیا ہوا تھا۔

6 اگست کو وہ خود لاہور ایکسپو سینٹر گئے۔ خاندانی کاروبار کے اسٹال پر ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے چند لمحے قیام کیا۔ اسی دن سوال اٹھا کہ کاروباری نمائش میں نظر آنا ممکن ہے تو احتجاج میں گرفتاری کا خدشہ کیوں ہے، اشتہاری ہونے کے باوجود پولیس کی نظروں سے 3 سال اوجھل رہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق انہیں ملتان سے حراست میں لے کر لاہور پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ پولیس کا موقف ہے کہ اب گرفتاری اس لیے ہوئی کہ 9 مئی کے مقدمات میں دائمی وارنٹ پہلے سے جاری تھے، وہ اشتہاری تھے اور اب تفتیش مکمل کرنے کے لیے انہیں حراست میں لیا گیا ہے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق حماد اظہر کی یہ گرفتاری فرمائشی ہے۔ حماد اظہر پچھلے کافی عرصے سے اشتہاری تھے، لاہور ضمنی الیکشن میں بھی وہ اپنے حلقے میں نظر آتے رہے ہیں، پھر وہ ایکسپو سینٹر میں اپنے کاروبار کی تشہیر کرتے ہوئے نظر آئے مگر قانون نافذ کرنے والوں کو وہ کہیں بھی نظر نہیں، لیکن اب اچانک ان کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جناح ہاؤس حملہ کیس: پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر کا 20 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں اس لیے پکڑا گیا کہ 27 ستمبر کے ملک گیر احتجاج اور لانگ مارچ سے قبل اس طرح گرفتاریوں کا تاثر دے کر مشن 27 ستمبر کمزور کرنا ہے، پارٹی کا مطالبہ ہے کہ انہیں فوری عدالت میں پیش کیا جائے اور قانونی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp