انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے نوجوان فاسٹ باؤلر رضااللہ نے اپنے کرکٹ کے سفر اور قومی ٹیم تک پہنچنے کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے گلی میں ٹیپ بال سے کرکٹ کا آغاز کیا، جبکہ بڑے بھائی کو کھیلتا دیکھ کر ان کے اندر بھی کرکٹر بننے کا شوق پیدا ہوا۔
Razaullah snaffles two wickets as England finish Day One on 156-4 🏏#ENGvPAK | #PakistanCricket pic.twitter.com/QbEzgxyRIS
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) September 9, 2026
مزید پڑھیں:انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میں پاکستان کے 3 کھلاڑیوں کے ڈیبیو کا امکان
رضا اللہ کے مطابق کرکٹ کا سفر آسان نہیں تھا، سہولیات کی کمی سمیت کئی مشکلات کا سامنا رہا، تاہم انہوں نے خود کو حالات کے مطابق ڈھالا اور محنت جاری رکھی۔ انڈر 19، ریجن، گریڈ ٹو اور فرسٹ کلاس کرکٹ میں کارکردگی دکھانے کے بعد انہیں پی ایس ایل میں کھیلنے کا موقع ملا، جہاں ان کی باؤلنگ نے کوچز کی توجہ حاصل کی۔

انہوں نے بتایا کہ پی ایس ایل کے بعد نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں 2 ماہ کے کیمپ کے دوران ریحان، وکی، ایشلے اور عاقب جاوید سمیت کوچنگ اسٹاف نے ان کے ساتھ کام کیا، جس سے انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ بعد ازاں چیمپئنز کپ میں گولڈ ٹیم کا حصہ بنے اور ٹیم نے ٹائٹل بھی اپنے نام کیا۔
قومی ٹیم میں طلب کیے جانے کے لمحات یاد کرتے ہوئے رضا اللہ نے کہا کہ انہیں اچانک قومی ٹیم میں آنے کا فون موصول ہوا۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے جب انہیں بلایا گیا، بعد میں بتایا گیا کہ انہیں قومی اسکواڈ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ رضا اللہ کے بقول انہوں نے اس موقع پر اپنے والدین سے بھی خصوصی دعاؤں کی درخواست کی۔

ٹیسٹ ڈیبیو کو اپنے لیے فخر کا لمحہ قرار دیتے ہوئے رضا اللہ نے کہا کہ ملک کی نمائندگی کرنے کی خوشی کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کوشش کریں گے کہ اپنی بہترین کارکردگی پیش کریں اور ملک کے لیے اچھا کھیلیں۔
یہ انڈر 19 سے آیا لڑکا 90 مائلز کی رفتار سے باولنگ کررہا اور اپنے پہلے ہی اوور میں دنیا کے بہترین بےباز جو روٹ کو آوٹ کر کے کرکٹ بورڈ کو بتا رہا کہ کرکٹ میں آج بھی pace معنی رکھتی۔اللہ کرے بورڈ کو سمجھ آجائے اور پاکستان کو پھر ایسے بولر ملے جو 150 پر بال کرتے ہوں۔ pic.twitter.com/osFfd8Kreu
— Mughira rais (@mughira2) September 9, 2026
انگلینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے روز رضا اللہ پاکستان کی جانب سے سب سے کامیاب باؤلر رہے۔ انہوں نے 9 اوورز میں 42 رنز دے کر 2 اہم وکٹیں حاصل کیں، جن میں تجربہ کار بیٹر جو روٹ اور ایمیلیو گے کی وکٹیں شامل ہیں۔

رضا اللہ نے شائقینِ کرکٹ سے اپیل کی کہ وہ ان سمیت پوری پاکستانی ٹیم اور ملک کے لیے دعا کریں، ان کا کہنا تھا کہ شائقین نے ہمیشہ قومی کھلاڑیوں کو سپورٹ کیا ہے اور آئندہ بھی ان کی دعاؤں کی ضرورت رہے گی۔
ڈیبیو پر ’جو روٹ‘ کو نشانہ بنانے والے رضا اللہ کا مختصر تعارف
21 سالہ رضا اللہ کا تعلق مردان سے ہے۔ وہ 5 اپریل 2005 کو پیدا ہوئے۔ دائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے رضا اللہ دائیں ہاتھ کے میڈیم فاسٹ باؤلر اور بنیادی طور پر باؤلر ہیں۔
مزید پڑھیں:انگلینڈ کا پاکستان کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے لیے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
انہوں نے 2024 میں فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز کیا اور پی ایس ایل میں راولپنڈیز کی نمائندگی کی۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی کارکردگی کے بعد انہیں پاکستان کی قومی ٹیم میں جگہ ملی اور 9 ستمبر 2026 کو انگلینڈ کے خلاف ایجبسٹن ٹیسٹ میں اپنا ڈیبیو کیا۔














