لاس اینجلس سے سالٹ لیک سٹی جانے والی پرواز میں دباؤ کا غیر معمولی مسئلہ پیدا ہونے پر طیارے نے صرف 10 منٹ میں تقریباً 27 ہزار فٹ بلندی کم کی اور اسے لاس ویگاس کی جانب موڑ دیا گیا۔
ڈیلٹا ایئر لائنز کی پرواز 2311 میں 6 ستمبر کو دورانِ پرواز اچانک دباؤ میں خرابی پیدا ہوئی، جس کے باعث مسافر کیبن میں آکسیجن ماسک کھل گئے۔ طیارے میں 174 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔ ڈیلٹا کے ترجمان کے مطابق پائلٹس تربیت اور طے شدہ حفاظتی طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے طیارے کو محفوظ بلندی پر لائے اور پھر لاس ویگاس کی جانب موڑ دیا۔
یہ بھی پڑھیے جنوبی کوریا کا مسافر بردار طیارہ کس نے گرایا، تحقیقات مکمل
رپورٹس کے مطابق طیارہ تقریباً 27 ہزار فٹ کی بلندی سے صرف 10 منٹ میں نیچے آیا۔ فضائی ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی گفتگو میں پائلٹ کو یہ کہتے سنا گیا کہ طیارہ تیزی سے نیچے آ رہا ہے اور وہ 9 ہزار فٹ کی بلندی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ کنٹرولر کی جانب سے آکسیجن ماسک کھلنے کی تصدیق پوچھنے پر پائلٹ نے اثبات میں جواب دیا۔
طیارہ بحفاظت لاس ویگاس کے ہیری ریڈ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترا اور مسافر معمول کے مطابق طیارے سے باہر نکل گئے۔ ڈیلٹا نے مسافروں کو ان کی منزل تک پہنچانے کے لیے متبادل طیارے کا انتظام کیا۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ امریکی بحریہ کے ایف 18 فائٹر پائلٹ میتھیو وِز بکلے نے واقعے کو انتہائی نایاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال میں پائلٹس کی ترجیح قریب ترین موزوں رن وے پر طیارے کو بحفاظت اتارنا ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے کینیڈا میں مسافر طیارہ لینڈنگ کے دوران الٹ گیا، متعدد مسافر زخمی
واقعے کے بعد ایک مسافر نے ریڈٹ پر اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے خوفناک بات تیزی سے نیچے آنا نہیں بلکہ یہ تھی کہ مسافروں کو معلوم نہیں تھا کہ اصل میں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے مطابق فلائٹ اٹینڈنٹس آکسیجن ماسک پہن کر اعلانات کر رہے تھے، جس کی وجہ سے ان کی آواز سننا بھی مشکل ہو رہا تھا۔ مسافر نے بتایا کہ اس نے کچھ دیر کے لیے یہ بھی سوچا کہ شاید اسے اپنے اہل خانہ کو’میں تم سے محبت کرتا ہوں‘ کا آخری پیغام بھیجنا پڑے۔














