بھارت کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا، مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مؤثر انداز میں اٹھائیں گے، دفتر خارجہ

جمعرات 10 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے، پاکستان کے وزرائے اعظم اور صدور دنیا بھر کی اہم شخصیات سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرتے رہے ہیں اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے رواں اجلاس میں بھی یہ معاملہ مؤثر انداز میں اٹھایا جائے گا۔

ہفتہ وار نیوز بریفنگ کے دوران ترجمان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یک طرفہ اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جاسکتی۔ انہوں نے سہارنپور میں قدیم مسجد مسمار کیے جانے کی بھی شدید مذمت کی اور اسے مذہبی آزادیوں کے خلاف قرار دیا۔

ترجمان نے کہا کہ نہرو کے دور میں پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ سمجھوتا ہوا تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں مذہبی مقامات کو مسمار نہیں کریں گے۔ انہوں نے یاسین ملک کے خلاف مقدمے اور ان کی صحت کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یاسین ملک کا حلف نامہ بھارتی عدالتی نظام کے منہ پر طمانچہ ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں ان کی صحت کا جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھیں:7 زبانوں پر عبور اور سفارتی ماہر سجاد حیدر خان نے ترجمان دفتر خارجہ پاکستان کے عہدے کا چارج سنبھال لیا

پاکستان اور خطے کی صورتحال کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی سے پاک تعلقات چاہتا ہے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدیں باقاعدہ طور پر نشان زدہ ہیں اور سرحد کے حوالے سے کسی قسم کی کنفیوژن نہیں۔ پاکستان نے کئی عشروں تک تقریباً 40 لاکھ افغان شہریوں کی میزبانی کی، تاہم دہشتگردی دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ پرامن طور پر رہ سکتے ہیں۔ افغانستان میں قید پاکستانی شہریوں کی تعداد کا درست اندازہ نہیں، تاہم پاکستان نے قیدیوں کے تبادلے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ حال ہی میں بھارت کے ساتھ بھی قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ یہ صرف دفاعی نوعیت کا معاہدہ ہے اور اس کے اجلاس تینوں ممالک میں باری باری منعقد ہوں گے۔ یمن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان یمن میں امن چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے علاقائی تناظر میں بھی تمام کوششیں کرتا ہے۔ اس سوال پر کہ کیا معاہدے کے تحت پاکستان یمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائی کا ارادہ رکھتا ہے، ترجمان نے کہا کہ سردست ایسا کچھ زیر بحث نہیں۔

ایران پر تجارتی پابندیوں کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان ان پابندیوں کا جائزہ ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے لے گا۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدے سے متعلق فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا، ترجمان دفتر خارجہ

غزہ کی صورتحال پر ترجمان نے بتایا کہ پاکستان سمیت عرب اور اسلامی ممالک فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی اسرائیلی تجاویز مسترد کرچکے ہیں۔ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے جس کی سرحدیں 4 جون 1967 کی پوزیشن کے مطابق ہوں اور مشرقی یروشلم اس کا دارالحکومت ہو۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں سے درآمدات محدود کرنے کے برطانیہ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور دیگر ممالک سے بھی بین الاقوامی قانون کے تحت ایسے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، ترکیہ اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطوں میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا اور دونوں نے جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ملاقات پر اتفاق کیا۔

ترجمان نے بتایا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے واقعات نے دنیا اور پاکستان کے حوالے سے بہت سی چیزیں تبدیل کردیں۔

بھارت کی جانب سے پاکستان میں دہشتگردی کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے پاس بھارتی سرگرمیوں کے شواہد موجود ہیں اور بھارتی دہشتگرد سرگرمیوں کے شواہد صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ کینیڈا، امریکا، آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:مکہ اکارڈ کے تحت اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی کا پہلا اہم ترین اجلاس کل استنبول میں ہوگا، دفتر خارجہ

سیلاب سے متاثرہ نیپال کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 100 ٹن امدادی سامان بھجوانے کی ہدایت کی ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ پاکستان آئندہ سال 4 سے 11 اپریل تک سیف گیمز کی میزبانی کرے گا، آخری بار پاکستان نے یہ کھیل 2004 میں منعقد کیے تھے۔ بھارت کی شرکت کے بارے میں فیصلہ بعد میں ہوگا، کھیلوں کو سیاسی ہتھیار نہیں بنانا چاہیے۔

افغان طلبہ کے حوالے سے ترجمان نے واضح کیا کہ حکومت نے تمام افغان طلبہ کو پاکستان سے واپس بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ جو طلبہ یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں اور ان کے پاس درست ویزا ہے وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں، جبکہ غیر اندراج شدہ اور بغیر ویزا افراد قانون کے مطابق کارروائی کے تابع ہوں گے۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا دشمن نہیں، تاہم موجودہ افغان حکومت دہشتگردی کے حوالے سے پاکستان کے مؤقف کو سمجھ نہیں رہی۔ انہوں نے بتایا کہ کاسا 1000 اور تاپی گیس منصوبے کئی دہائیاں قبل شروع ہوئے تھے اور پاکستان چین کے بڑے اقدام گلوبل گورننس انیشی ایٹو کا حصہ ہے، جس میں چین کے ساتھ مزید کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس نے ایک بڑے منشیات نیٹ ورک کو توڑتے ہوئے 200 کلوگرام منشیات قبضے میں لی ہیں۔ کارروائی کراچی پورٹ پر سری لنکن حکام کے تعاون سے کی گئی اور نیٹ ورک کا سرغنہ افغان شہری نکلا۔

یو اے ای نے ڈی پورٹ پاکستانیوں سے 7 گنا زیادہ ویزے جاری کیے

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ڈی پورٹ کیے گئے پاکستانیوں کی تعداد سے 7 گنا زیادہ ویزے جاری کیے ہیں۔ اگر 7 سے 8 ہزار پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا تو گزشتہ 5 سال کے دوران ہر سال تقریباً 50 ہزار پاکستانیوں کو ملازمتیں دی گئیں۔

ترجمان نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان سے متعلق کہا کہ ان کے بیان کو غلط معانی پہنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کہی گئی تھی کہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے راستے استعمال کرتے ہیں، یہ نہیں کہا گیا کہ ان صوبوں کو خطرہ ہے۔

قادیانیوں کے تحفظ سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت انہیں تمام حقوق حاصل ہیں اور ان کے خلاف جرائم کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جاتی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان کے چین، امریکا اور روس کے ساتھ متوازن تعلقات ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آئندہ سال شنگھائی تعاون تنظیم کا اجلاس پاکستان میں ہوگا، ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی

انہوں نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر سے متعلق بھارت کے بے بنیاد بیانات کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ جموں و کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر حل طلب مسئلہ ہے، جبکہ بھارت کے خود ساختہ جموں و کشمیر کے نقشے سے جموں و کشمیر کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ترجمان کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتا ہے اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ پاکستان سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان فلسطین کے معاملے پر دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر مسلسل سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ 6 ستمبر کو پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے فلسطین کے معاملے پر مشترکہ اقدامات کیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp