پاکستان، سعودی عربیہ اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ کے تحت قائم کی گئی ’اسٹریٹجک پولیٹیکل اینڈ ڈیفنس کمیٹی‘ کا پہلا باقاعدہ اور انتہائی اہم اجلاس 31 اگست 2026 کو ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہو رہا ہے۔
خطے کے دفاع اور سلامتی کے لیے مشترکہ لائحہ عمل طے کرنے کے لیے اس اہم ترین اجلاس میں پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کی اعلیٰ ترین سیاسی و عسکری قیادت شرکت کر رہی ہے ۔
🔊PR No.2️⃣2️⃣9️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Curtain Raiser: Inaugural Meeting of the Strategic Political and Defence Committee under the Makkah Agreement
🔗⬇️ pic.twitter.com/mm56IfiZjd
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) August 30, 2026
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اعلامیے کے مطابق استنبول میں ہونے والے اس سہ فریقی اجلاس میں پاکستان کی جانب سے ایک انتہائی اہم اور بااختیار وفد شرکت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں، اسحاق ڈار
اس وفد میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شامل ہیں۔
پاکستان کے اعلیٰ ترین عسکری اور سیاسی عہدیداروں کی یہ نمائندگی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ اسلام آباد اس نئے اتحاد اور علاقائی سلامتی کو کس قدر اہمیت دیتا ہے۔
ترکیہ اور سعودی قیادت کی شمولیت اور پس منظر
دفتر خارجہ کے اعلامیے کے مطابق اس افتتاحی اجلاس میں میزبان ملک جمہوریہ ترکیہ اور مملکت سعودی عرب کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور افواج کے چیفس آف جنرل سٹاف بھی شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ ‘مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ’ جسے مکہ اکارڈ بھی کہا جاتا ہے، تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی اور سیاسی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس کمیٹی کا قیام اور اس کا پہلا اجلاس مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے سیکیورٹی حالات میں ایک مضبوط مشترکہ محاذ کی بنیاد رکھے گا۔
علاقائی امن و استحکام کے لیے عزم
اسٹریٹجک کمیٹی کے اس اعلیٰ سطح کے اجلاس میں پاکستان کی بھرپور شمولیت ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ اس کی لازوال اور تاریخی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ نیا فورم نہ صرف ان تینوں ممالک کے باہمی دفاعی اور سیاسی تعلقات کو ایک نئی اسٹرٹیجک بلندی پر لے جائے گا بلکہ خطے میں دیرپا امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کی پختہ خواہش اور سنجیدہ عزم کو بھی ظاہر کرتا ہے۔














