بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے ستیہ نکیتن میں پی جی عمارت گرنے سے ملبے تلے دبنے والے طالبعلم نے دوست کو واٹس ایپ پر لائیو لوکیشن اور امداد کے پیغامات بھیج کر ریسکیو ٹیموں کو اپنی جگہ سے آگاہ کرنے میں مدد کی۔
مزید پڑھیں:جاپان میں 7.1 شدت کے زلزلے سے ہلاکتیں 13 ہو گئیں، ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری
دہلی یونیورسٹی کے بی کام کے دوسرے سال کے طالبعلم نتیش چب نے بتایا کہ وہ اتوار کو اپنے کمرے میں کھانا کھانے کے بعد اپنے دوست کے ساتھ عمارت کے ملبے تلے پھنس گئے۔ دونوں کو قریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد زخمی حالت میں ملبے سے نکالا گیا۔
🇮🇳🏚️ Student hostel collapses in Delhi
A five-storey private hostel near Delhi University’s South Campus came down Sunday afternoon in Satya Niketan while basement work was under way. At least three people died, several were left critically hurt and rescue crews kept searching…— ULTIMAHORAENX (@ULTIMAHORAENX) September 6, 2026
نتیش چب کے مطابق ملبے تلے دبنے کے بعد ان کا پورا جسم سن ہوگیا تھا اور انہیں اپنے جسم پر ہونے والی چوٹوں کا بھی احساس نہیں ہورہا تھا۔ اسپتال پہنچنے کے کچھ دیر بعد انہیں ہوش آیا اور معلوم ہوا کہ وہ خون بہنے کے باعث زخمی ہوئے تھے۔
حادثے میں 7 افراد، جن میں 5 طالبعلم شامل تھے، ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ نتیش کا کہنا ہے کہ طلبا نے کبھی تصور نہیں کیا تھا کہ عمارت اتنی کمزور ہے کہ اچانک منہدم ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق عمارت کے تہہ خانے میں ایک ہفتے سے تعمیراتی کام جاری تھا۔
The building near Delhi South campus collapsed because the system collapsed much before it.
6 REASONS WHY ACCOUNTABILITY GOES STRAIGHT TO THE TOP OF THE MCD PILE IN DELHI
+ Building had visible cracks before the collapse, raising questions over whether warnings were ignored.
+… pic.twitter.com/25Io7X4kck— Rahul Shivshankar (@RShivshankar) September 7, 2026
مزید پڑھیں:دہلی میں عمارت منہدم، ملبے سے 6 افراد زندہ نکال لیے گئے، ریسکیو آپریشن جاری
پولیس کی ایف آئی آر کے مطابق عمارت کے مالکان کو معلوم تھا کہ پرانی بنیاد اضافی وزن برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی، اس کے باوجود کرائے کی آمدنی بڑھانے کے لیے پرانی عمارت پر مزید 4 منزلیں تعمیر کی گئیں، جس سے عمارت کے ڈھانچے پر شدید دباؤ پڑا۔














