جاپان کے جنوبی علاقے میں آنے والے 7.1 شدت کے طاقتور زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہے، جبکہ امدادی کارکن تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے مسلسل ریسکیو آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، لاکھوں متاثر ہوئے ہیں اور خطے میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہیں۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق زلزلے کا مرکز جنوبی صوبے کوماموتو کے قریب تھا، جس کے شدید جھٹکے پورے کیوشو جزیرے میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد کوماموتو کے قریب واقع ایک بڑے شاپنگ مال میں دھماکا ہوا، جس کے باعث عمارت کا ایک بڑا حصہ منہدم ہوگیا۔ ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے 8 افراد کو زندہ نکال لیا، تاہم 2 نوجوان خواتین جان کی بازی ہار گئیں۔ حکام کے مطابق شاپنگ مال میں گیس کے اخراج اور ممکنہ دھماکے کی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں۔
The death toll (July 28) magnitude 7.1 quake in Kumamoto, Japan, has risen to 13, with at least another 30 missing. pic.twitter.com/hDX7dGRgue
— Sri Lanka Tweet 🇱🇰 (@SriLankaTweet) July 29, 2026
وزیراعظم سانی تاکائیچی نے کہا ہے کہ ملبے تلے دبے افراد کو بچانے کے لیے وقت کے خلاف جنگ جاری ہے اور حکومت تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ امدادی کارروائیوں میں فائر بریگیڈ، پولیس، خصوصی ریسکیو ٹیموں اور ساڑھے 4 ہزار سے زائد فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وینزویلا زلزلہ: ہلاکتیں ایک ہزار کے قریب، 50 ہزار افراد لاپتا
ادھر ایک کاغذ بنانے والی فیکٹری کی چمنی گرنے سے 7 کارکن لاپتا ہو گئے، جبکہ 4 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف اسپتالوں میں درجنوں زخمیوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے، تاہم بجلی کی بندش اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث بعض اسپتالوں نے نئے مریضوں کا داخلہ عارضی طور پر روک دیا ہے۔
حکام نے تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ زلزلے کے بعد 36 ہزار سے زائد گھروں کی بجلی منقطع ہے، جبکہ شدید گرمی کے باعث شہریوں کو ہیٹ اسٹروک کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
Race Against Time in Japan… Death Toll Rises as Search for Missing Continues
The death toll from the earthquake that struck southern Japan has risen to at least 13, while rescue teams continue searching for missing people under the rubble amid warnings of aftershocks.
The… pic.twitter.com/xBdJmtiRej
— mahmoud khalil (@sahel2212) July 29, 2026
زلزلے سے متعدد شاہراہیں پھٹ گئیں، کئی عمارتیں اور تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا، جبکہ تیز رفتار ریل سروس بھی معطل کر دی گئی۔ سونی، ہونڈا اور دیگر بڑی کمپنیوں نے احتیاطاً اپنی مقامی فیکٹریوں میں پیداوار عارضی طور پر روک دی ہے۔
جاپانی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایک ہفتے تک مزید طاقتور آفٹر شاکس اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ برقرار ہے۔ واضح رہے کہ جاپان بحرالکاہل کے ’رنگ آف فائر‘ میں واقع ہے، جہاں دنیا کے تقریباً 20 فیصد طاقتور زلزلے آتے ہیں۔ 2016 میں بھی کوماموتو میں آنے والے تباہ کن زلزلے میں 275 افراد ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے تھے۔













