آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی نے پاکستان کے لیے ایک پرانے مسئلے کو نئے انداز میں نمایاں کر دیا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے یا جہازوں کی آمدورفت متاثر ہو رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اگر کسی بحران کے دوران توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ غیر یقینی ہو جائے تو پاکستان کے پاس کتنے متبادل موجود ہیں۔
توانائی سلامتی کا مطلب اب صرف یہ نہیں رہا کہ تیل کہاں سے خریدا جائے، بلکہ یہ بھی اتنا ہی اہم ہے کہ وہ پاکستان تک کس راستے سے پہنچے گا۔
پاکستان کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ خلیج سے وابستہ رہا ہے۔ جنگ سے پہلے تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 90 فیصد درآمدات ایسے راستوں سے آتی تھیں جو آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کے اہم توانائی شراکت دار ہیں، لیکن موجودہ بحران نے ایک بنیادی فرق واضح کر دیا ہے: مختلف ملکوں سے تیل خریدنا اور مختلف راستوں سے تیل حاصل کرنا ایک ہی بات نہیں۔ اگر سپلائر کئی ہوں، لیکن بیشتر کارگو ایک ہی سمندری گزرگاہ سے آ رہا ہو تو جغرافیائی خطرہ برقرار رہتا ہے۔ یہی وہ کمزوری ہے جسے موجودہ صورتحال نے نمایاں کیا ہے۔
پاکستان نے اس دباؤ کے جواب میں اپنے ذرائع متنوع بنانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ ’سنرجی کو‘ نے امریکی خام تیل کی خریداری بڑھائی ہے اور مزید طویل مدتی معاہدوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک تجارتی فیصلہ ہے، لیکن اس کے اندر ایک بڑی اسٹریٹجک تبدیلی چھپی ہوئی ہے۔ پاکستان پہلی مرتبہ زیادہ سنجیدگی سے یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ توانائی کا ایسا پورٹ فولیو کس طرح بنایا جائے جو کسی ایک خطے، ایک سپلائر یا ایک سمندری راستے پر ضرورت سے زیادہ منحصر نہ ہو۔
یہیں سعودی عرب کا مغربی ساحل اہم ہو جاتا ہے۔
سعودی آرامکو کی مشرق مغرب پائپ لائن مشرقی علاقوں سے خام تیل کو بحیرۂ احمر کے ساحل پر ینبع تک پہنچاتی ہے۔ اس نظام کی اہمیت اس وقت بڑھ جاتی ہے جب ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہو، کیونکہ سعودی عرب کے پاس اپنی برآمدات کو ایک ساحل سے دوسرے ساحل کی طرف منتقل کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ پاکستان کی جانب سے ینبع کے راستے سعودی خام تیل حاصل کرنے کے امکان کا جائزہ اسی پس منظر میں معنی خیز دکھائی دیتا ہے۔
لیکن یہاں ایک دوسری احتیاط بھی ضروری ہے۔ ینبع کو ہرمز کا مکمل اور مستقل متبادل سمجھ لینا مسئلے کو حل کرنے کے بجائے صرف جغرافیہ بدل دے گا۔ بحیرۂ احمر اور باب المندب بھی حالیہ برسوں میں کشیدگی اور حملوں سے محفوظ نہیں رہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے درست حکمت عملی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ ہرمز کو ینبع سے بدل دیا جائے، بلکہ یہ کہ ہرمز کے ساتھ ینبع، امریکی خام تیل، دیگر عالمی ذرائع، بہتر ذخیرہ سازی اور متبادل سمندری انتظامات سب ایک ہی توانائی پالیسی کا حصہ بنیں۔
یہ سوال صرف خارجہ پالیسی یا تیل خریدنے کے معاہدوں تک محدود نہیں۔ پاکستان کی اپنی بندرگاہی اور ریفائنری صلاحیتیں بھی اس بحث کا حصہ ہیں۔ اگر ملک بڑے خام تیل بردار جہازوں کو مؤثر طریقے سے سنبھال نہیں سکتا، مختلف اقسام کے خام تیل کو صاف کرنے کے لیے ریفائنریاں تیار نہیں ہیں یا بحران کے وقت استعمال کے لیے مناسب ذخائر موجود نہیں ہیں تو نئے سپلائر تلاش کر لینا بھی کافی نہیں ہوگا۔ اسی لیے ’سنرجی کو‘ کی ریفائنری کی اپ گریڈیشن، سمندر میں لنگراندازی کے نظام اور بڑی مقدار میں خام تیل سنبھالنے کی منصوبہ بندی کو صرف ایک کمپنی کی توسیع نہیں، بلکہ پاکستان کے توانائی ڈھانچے کی ایک بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
یہاں سے سعودی پاکستان توانائی تعلق کے لیے بھی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے۔ اب تک اس تعلق کو عموماً اس بات سے ناپا جاتا رہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب سے کتنا تیل خریدتا ہے، ادائیگی کی سہولت کیا ہے اور کس مدت کے لیے تیل فراہم کیا جاتا ہے۔ مستقبل میں شاید زیادہ اہم سوال یہ ہوگا کہ دونوں ملک مل کر ایسی سپلائی چین کیسے بنا سکتے ہیں جو بحران کے دوران بھی کام کرتی رہے۔
اس تعاون میں ینبع ایک عنصر ہو سکتا ہے، لیکن پوری حکمت عملی نہیں۔ پاکستان میں تیل ذخیرہ کرنے کی گنجائش بڑھانا، ریفائنریوں کو جدید بنانا، بڑے جہازوں کو سنبھالنے کی صلاحیت پیدا کرنا، طویل مدتی سپلائی معاہدے کرنا اور مختلف راستوں سے ترسیل کے آپشن برقرار رکھنا زیادہ جامع سوچ کا حصہ ہونا چاہیے۔ سعودی عرب کی اپنی توانائی حکمت عملی اس حوالے سے ایک اہم مثال پیش کرتی ہے، جہاں مشرقی ساحل کے ساتھ مغربی ساحل، ہرمز کے ساتھ بحیرۂ احمر، پائپ لائن کے ساتھ ذخیرہ سازی اور برآمدی لچک ایک ہی نظام کا حصہ ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی اصل سبق یہی ہے کہ توانائی سلامتی صرف بیرونِ ملک اچھے تعلقات رکھنے سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اندرونی تیاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ جب سمندری راستہ متاثر ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف تیل کے ٹینکر تک محدود نہیں رہتا؛ زرمبادلہ، درآمدی ادائیگیاں، ریفائنری آپریشن، بجلی، ٹرانسپورٹ اور آخرکار عام صارف تک اس کے اثرات پہنچتے ہیں۔ اس لیے توانائی سلامتی کو صرف وزارتِ پٹرولیم کا مسئلہ سمجھنا بھی کافی نہیں، بلکہ یہ مالیاتی، صنعتی، بحری اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی کا مشترکہ موضوع ہے۔
آبنائے ہرمز کی موجودہ کشیدگی وقت کے ساتھ کم ہو سکتی ہے، جہازوں کی آمدورفت معمول پر آ سکتی ہے اور تیل کی قیمتیں بھی نیچے جا سکتی ہیں، لیکن اس بحران نے پاکستان کی توانائی ساخت میں جو کمزوری دکھائی ہے، اسے نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ بحران اکثر نئی پالیسی نہیں بناتے، لیکن وہ پرانی کمزوریوں کو اتنا نمایاں ضرور کر دیتے ہیں کہ انہیں مزید چھپایا نہیں جا سکتا۔
پاکستان کو اس وقت صرف نئے تیل فروشوں کی نہیں، بلکہ توانائی حاصل کرنے کا ایک نیا، محفوظ نقشہ درکار ہے۔ ایسے نقشے میں سعودی عرب کی اہمیت صرف اس لیے نہیں ہوگی کہ اس کے پاس تیل ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے پاس مختلف ساحل، متبادل برآمدی راستے اور بحران کے وقت سپلائی کو موڑنے کی صلاحیت موجود ہے۔
مستقبل میں مضبوط توانائی تعلقات شاید اس بات سے کم ناپے جائیں گے کہ ایک ملک دوسرے کو کتنے بیرل فروخت کرتا ہے، اور اس بات سے زیادہ کہ جب معمول کا راستہ غیر معمولی حالات کا شکار ہو جائے تو ان بیرل کے پاس پاکستان تک پہنچنے کے کتنے راستے باقی رہتے ہیں۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔













