وزیراعظم کے مشیر سینیٹر رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی 27 ستمبر کو مسلح گروہ لا کر دوسرا 9 مئی کرنے جا رہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی اتحادی حکومت کا حصہ ضرور ہیں لیکن وہ مسلم لیگ ن کی نمائندگی بالکل بھی نہیں کرتے۔
جمعرات کو ایک نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مصدقہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اسلام آباد کی طرف مسلح گروہ لانے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ پی ٹی آئی احتجاج کی آڑ میں ایسے افراد کو بھی لائے گی جن کا شمار سیاسی کارکنان میں نہیں ہوتا۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کی تشکیل کا کوئی بل یا ترمیم زیرِ غور نہیں، سندھ اسمبلی کی قرارداد اور تقاریر قبل از وقت ہیں، رانا ثنا اللہ
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جس مقصد کی تیاری کر رہی ہے وہ ہرگز نیک نہیں، درحقیقت وہ 27 ستمبر کو ایک اور 9 مئی برپا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ریڈ زون میں احتجاج کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی
مشیرِ وزیراعظم نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ کسی صورت بھی ‘ریڈ زون’ میں احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اگر پی ٹی آئی نے اسلام آباد یا لاہور کی طرف مارچ کیا تو راستے میں سخت رکاوٹیں ڈالی جائیں گی۔
انہوں نے پی ٹی آئی رہنما جنید اکبر سے مطالبہ کیا کہ وہ قوم کو اس بات کی گارنٹی دیں کہ 27 ستمبر کے مارچ میں کوئی ایک بھی مسلح شخص شامل نہیں ہوگا۔
مذاکرات کی پیشکش اور پرامن احتجاج کا حق
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے لیکن اس کے ساتھ کچھ آئینی ذمہ داریاں بھی جڑی ہیں۔
انہوں نے پیشکش کی کہ پی ٹی آئی اسلام آباد انتظامیہ کے ساتھ بیٹھ کر معاملات طے کرے، وہ خود بھی اس قانونی دائرے میں تعاون کے لیے تیار ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پی ٹی آئی نے ماضی میں 9 مئی کے پرتشدد واقعات نہ کیے ہوتے تو آج ان پر یہ سخت پابندیاں عائد نہ ہوتیں۔
وزیر داخلہ محسن نقوی پر کڑی تنقید
اپنی ہی حکومت کے وزیر داخلہ پر حیران کن اور کڑی تنقید کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ ضرور ہیں لیکن وہ ہماری یعنی مسلم لیگ ن کی نمائندگی نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ ایک حالیہ تقریب میں محسن نقوی نے غیر متعلقہ تقریر کی اور نظام تباہ ہونے کی بات کی۔
ان کے بقول محسن نقوی نے جس مخصوص شخصیت کی طرف اشارہ کیا، وہ سراسر غلط تھا اور ان کا خیال ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اس غیر محتاط بیان پر محسن نقوی سے ضرور بات کی ہوگی۔
نئے صوبوں کی بحث اور پارلیمنٹ کا فورم
ملک میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے شروع ہونے والی بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بالکل غلط جگہ سے شروع کیا گیا ہے، ایک اکنامک فورم پر ایسی تقریر کرنے سے یہ معاملہ حل نہیں ہوگا۔
نئے صوبوں کے قیام پر بحث کا واحد اور قانونی فورم صرف پارلیمنٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس پر بحث کر رہے ہیں، وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں لے کر آئیں، جیسا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی تجویز دی ہے۔
وسائل کی نچلی سطح پر منتقلی
رہنما مسلم لیگ ن نے واضح کیا کہ جب صوبوں کی بحث درست فورم پر آئے گی تو ان کی جماعت اس پر باقاعدہ اجلاس بلائے گی، فی الحال اس معاملے پر میاں نواز شریف کے بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ جاری، احتجاج کرنے والے اپنے مقصد میں ناکام ہوگئے، رانا ثنا اللہ
ان کا مؤقف تھا کہ مسلم لیگ ن کے لیے اصل مسئلہ نئے صوبوں کا قیام نہیں بلکہ ہر یونین کونسل، تحصیل اور ڈسٹرکٹ کی سطح تک ترقیاتی فنڈز اور وسائل کی منصفانہ منتقلی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی نے ماضی میں صوبوں کے معاملے پر بحث کر کے محض سیاسی فائدہ اٹھایا تھا۔
پیٹرولیم لیوی اور معاشی حقائق
ملکی معیشت اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے معاشی حقائق واضح کیے اور خبردار کیا کہ اگر پیٹرول پر عائد لیوی میں 50 فیصد بھی کمی کر دی جائے، تو حکومت کو مجبوراً عوام پر 2000 ارب روپے کے مزید بالواسطہ ٹیکسز لگانے پڑیں گے، جو معیشت کے لیے مزید بوجھ کا سبب بنے گا۔














