وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے نئے صوبوں کی تشکیل سے متعلق کسی بھی مجوزہ قانون سازی کی سختی سے تردید کرتے ہوئے سندھ اسمبلی کی قرارداد اور وزیراعلیٰ مراد شاہ کی تقریر کو بے بنیاد اور قبل از وقت قرار دیا ہے۔
جمعہ کو نجی ٹی وی انٹرویو میں رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں انتظامی یونٹس کا کوئی بل موجود نہیں اور لندن میں محسن نقوی اور صدر آصف علی زرداری کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ایسی کسی قانون سازی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
واضح رہے کہ حال ہی میں سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے قیام، انتظامی یونٹس کی تقسیم اور این ایف سی ایوارڈ میں ممکنہ کٹوتی کے خدشات پر ایک قرارداد پیش کی گئی تھی جس میں وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:نئے صوبوں کا معاملہ محض شور شرابہ، پی ٹی آئی کو سیاسی مذاکرات کے لیے پہلے جمہوری رویہ اپنانا ہو گا، رانا ثنا اللہ
اسی تناظر میں سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ لندن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان کسی بڑی آئینی ترمیم یا نئے صوبوں کے حوالے سے معاملات طے پا رہے ہیں، جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے یہ تفصیلی اور اہم وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔
سندھ اسمبلی کا شور اور پارلیمانی حقیقت
وفاقی مشیر رانا ثنا اللہ نے صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں پیش کی گئی قرارداد اور وہاں ہونے والی تقاریر کو محض ‘حفظ ما تقدم’ یا قبل از وقت ہی کہا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو اس وقت خبردار ہونا چاہیے تھا جب ایسا کوئی بل یا قرارداد قومی اسمبلی میں پیش ہوتی۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قانون سازی کے حوالے سے ایک واضح جمہوری طریقہ کار موجود ہے، اگر ایسی کوئی قرارداد لائی بھی جائے تو پہلے تمام صوبوں سے مشاورت کی جاتی ہے، پھر معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی میں جاتا ہے، جس کے بعد پارلیمنٹ منظوری دینے یا نہ دینے کا حتمی فیصلہ کرتی ہے۔
انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ جب صوبوں کے حوالے سے کوئی قرارداد سرے سے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کے لیے اس وقت تک کوئی تیاری ہی نہیں کی جا رہی ہے یا کوئی معاملہ حکومتی سطح پر زیر غور ہی نہیں ہے تو پہلے ہی بلاجواز شور مچا دیا گیا ہے۔
لندن ملاقاتیں اور صدر زرداری کی ناراضی کی تردید
رانا ثنا اللہ نے لندن میں کسی بھی قسم کی خفیہ قانون سازی یا سیاسی ملاقاتوں کی خبروں کو یکسر مسترد کر دیا۔
انہوں نے بتایا کہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ محض اپنے بیٹے کے داخلے کے سلسلے میں لندن گئے ہیں جبکہ محسن نقوی پہلے سے ہی وہاں موجود تھے۔
صدر آصف علی زرداری کی ناراضی کے حوالے سے اڑنے والی افواہوں پر ان کا کہنا تھا کہ صدر مملکت نہ تو ناراض ہوئے ہیں اور نہ ہی وہ ناراض ہو کر لندن بیٹھے ہیں۔
انہوں نے ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ جب سندھ اسمبلی میں وزیر داخلہ محسن نقوی کے خلاف تقاریر ہو رہی تھیں، عین اس وقت وہ صدر آصف علی زرداری کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ صدر زرداری خود کئی بار کہہ چکے ہیں کہ ‘محسن نقوی میرا منہ بولا بیٹا ہے’، اس لیے ان کی اکثر و بیشتر ہونے والی ملاقاتوں پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ محسن نقوی واپس آ چکے ہیں اور آج ہی وزیر اعظم ہاؤس میں ان کی غیر رسمی ملاقات بھی ہوئی ہے۔
اتحادیوں کے ساتھ مشاورت اور پی ایف سی پر بحث
حکومتی فیصلوں اور اتحادی معاملات پر بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت کا مضبوط اتحاد قائم ہے اور کسی بھی بل یا ترمیم پر اتفاق رائے کے لیے باقاعدہ ایک ‘اتحادی کمیٹی’ فعال ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اپوزیشن ملاقات کا مسئلہ حل کرے، ایک کمرے میں بیٹھ کر بات ہوگی تو ماحول اور نتیجہ بالکل مختلف ہوگا، رانا ثنا اللہ
کوئی بھی قانون سازی پارلیمنٹ میں جانے سے قبل اس کمیٹی کے سامنے رکھی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن ہی نہیں کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی مشاورت یا علم میں لائے بغیر صوبوں کے حوالے سے کوئی قرارداد یا ترمیم آ جائے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت این ایف سی کی بجائے پی ایف سی یعنی ‘پروونشل فنانس کمیشن’ پر ضرور بات چیت ہو رہی ہے، لیکن انتظامی یونٹس یا نئے صوبوں سے متعلق کوئی بل یا ترمیم نہ تو زیرِ بحث ہے اور نہ ہی میز پر موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جمہوری عمل میں مختلف آرا پر بحث ہوتی رہتی ہے لیکن تاحال حکومت کی جانب سے اس قسم کی کسی بھی قانون سازی کی کوئی تیاری نہیں کی جا رہی اور اگر کہیں اور اس کی تیاری ہو بھی رہی ہے تو حتمی منظوری کے لیے اسے ہمارے پاس ہی آنا ہوگا۔














