نئے صوبے نہیں، بااختیار انتظامی یونٹس اور بلدیاتی نظام کی جانب پیشرفت کا امکان ہے، تجزیہ کار

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں نئے صوبوں، نئی انتظامی اکائیوں اور اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے حوالے سے بحث جاری ہے جبکہ ملک کے نامور سیاسی تجزیہ کاروں نے بااختیار انتظامی یونٹس اور بلدیاتی نظام کی جانب پیش رفت کا امکان ظاہر کیا ہے۔

سینیئر تجزیہ کار انصار عباسی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فوری طور پر نئے صوبے تو نہیں بن رہے، تاہم انتظامی ڈھانچے میں تبدیلی اور بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام کی صورت میں کسی درمیانی راستے پر اتفاقِ رائے پیدا ہونے کا قوی امکان ہے۔

انتظامی اور مالی اختیارات کی منتقلی

انصار عباسی کے مطابق مختلف حکومتی شخصیات کے بیانات، سیاسی ردِعمل اور معاملے سے واقف حلقوں سے ہونے والی گفتگو سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ موجودہ بحث کا محور محض صوبائی حدود کی ازسرِ نو تشکیل نہیں، بلکہ انتظامی اختیارات اور مالی وسائل کو نچلی سطح تک منتقل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے

انہوں نے نشاندہی کی کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی جانب سے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ دفاع خواجہ آصف سمیت دیگر اہم حکومتی شخصیات کی گفتگو سے بھی موجودہ انتظامی ڈھانچے میں بہتری کی ضرورت کا عندیہ ملتا ہے۔

اس بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر فوری طور پر نئے صوبے نہیں بنتے تو عملی تبدیلی کی شکل کیا ہوگی؟ بعض حلقوں کے خیال میں اس کا ممکنہ حل ایسی نئی انتظامی اکائیوں اور مؤثر بلدیاتی نظام کی تشکیل میں مضمر ہے، جسے حقیقی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں۔

انصار عباسی کا کہنا ہے کہ ایک عام شہری کے لیے ریاست کا سب سے اہم ادارہ وہ ہے جو اس کے گھر کے قریب ہو اور اسے صاف پانی، سڑک، اسپتال، اسکول اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات فراہم کرے۔

لہٰذا اگر مقامی حکومتوں کے پاس فیصلے کا اختیار تو ہو لیکن مالی وسائل نہ ہوں، تو ان کا اختیار عملی طور پر محدود ہی رہے گا۔

 18ویں ترمیم کے بعد صوبوں سے نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی توقعات کے مطابق آگے نہیں بڑھ سکی۔

کراچی کی حیثیت اور وسائل کی غیر مساوی تقسیم

سینیئر تجزیہ کار شہزاد اقبال کے مطابق نئے صوبوں کا قیام اور کراچی کو وفاق کے زیرِ انتظام دینے کی تجویز فی الحال عملی شکل اختیار کرتی دکھائی نہیں دیتی۔

ان کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کسی صورت کراچی کی علیحدگی قبول نہیں کرے گی کیونکہ سندھ کے معاشی وسائل میں کراچی کا کلیدی کردار ہے۔

ان کے خیال میں موجودہ صورتِ حال کا درمیانی راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 140 کے تحت بلدیاتی نظام کو مؤثر و بااختیار بنایا جائے اور صوبائی سطح پر وسائل کا ارتکاز کم کیا جائے۔

شہزاد اقبال نے ترقیاتی اخراجات میں علاقائی تفاوت کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ لاہور میں فی شہری تقریباً 13 ہزار 240 روپے جبکہ لودھراں میں محض 460 روپے خرچ ہونا وسائل کی غیر مساوی تقسیم کا واضح ثبوت ہے۔

مزید پڑھیں:متوقع نئے صوبے: کیا نوجوانوں کو سیاست، سول سروس اور روزگار کے نئے مواقع مل سکیں گے؟

اسی طرح ملک کی تقریباً 30 فیصد آبادی رکھنے والے جنوبی پنجاب کا ترقیاتی بجٹ میں حصہ صرف 4 فیصد رہنا بھی اس مسئلے کو نمایاں کرتا ہے۔

سیاسی مفادات اور صوبائی حکومتوں کا کنٹرول

سینیئر تجزیہ کار اطہر کاظمی کے مطابق اس بحث کے پیچھے وسائل اور انتظامی کنٹرول کی تقسیم کا بنیادی سوال موجود ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ صوبے نہیں چاہتے کہ ان کے مالی وسائل اور انتظامی اختیارات مزید تقسیم ہوں۔ اگر نئی انتظامی اکائیاں بنتی ہیں، تو وسائل نچلی سطح پر منتقل ہو جائیں گے، جس سے وزیرِ اعلیٰ کا اپنی مرضی کے مطابق ترقیاتی ترجیحات طے کرنے کا اختیار محدود ہو جائے گا۔

اطہر کاظمی کے مطابق، سیاسی جماعتیں اس تبدیلی کو آسانی سے قبول نہیں کریں گی، کیونکہ جہاں سیاسی مفادات کا معاملہ ہو، وہاں اصلاحات کی رفتار سست پڑ جاتی ہے۔ محض ظاہری تبدیلیوں یا نئے نام دینے سے بنیادی مسائل حل نہیں ہوں گے۔

آئینی پیچیدگیاں اور سیاسی جماعتوں کی خاموشی

سینیئر تجزیہ کار عمر چیمہ کا مؤقف ہے کہ نئے صوبوں کی بحث بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کو کرنی چاہیے تھی، لیکن وہ اس پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں۔

ان کے مطابق وفاقی وزیرِ داخلہ کا یہ بیان کہ ’نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کریں گے‘، کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ پارلیمان کرے گی یا اس کے لیے کوئی عوامی ریفرنڈم کرایا جائے گا۔ اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی اور جامع منصوبہ سامنے نہیں آ سکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:نئے صوبے بنانے کا حکم آگیا، نظام پیپلز پارٹی کے خلاف، شہباز حکومت کے خاتمے کے لیے ڈیڈ لائن

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اس لیے بھی کرتی ہیں کہ اس سے ان کے موجودہ انتظامی مفادات متاثر ہو سکتے ہیں۔

مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کی آرا سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام ایک سیاسی اور آئینی لحاظ سے پیچیدہ معاملہ ہے اور اس پر فوری اتفاقِ رائے کے امکانات محدود ہیں۔

تاہم انتظامی اکائیوں کی تشکیل اور ایک بااختیار بلدیاتی نظام کے قیام پر نسبتاً وسیع بحث اور پیش رفت کی گنجائش موجود دکھائی دیتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp