چند خاندانوں کی حاکمیت ختم کرنا ناگزیر، سندھ میں 6 صوبے بنائے جائیں، فاروق ستار

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ ملک میں چند خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری ختم کرکے عوام کی شراکت داری یقینی بنانے کی ضرورت ہے جبکہ سندھ کو موجودہ جغرافیائی حدود برقرار رکھتے ہوئے 6 صوبوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟

وی نیوز کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ ملک میں اہم معاملات پر منطق اور مضبوط دلائل کی بنیاد پر مکالمے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے 18ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں صوبوں کے حصے کو کم نہ کیے جانے کی جو شق شامل کی گئی وہ ایک باریک معاملہ تھا اور ان کے خیال میں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم کے آخری دن اچانک، انہیں بتائے بغیر شامل کردی گئی۔

فاروق ستار نے کہا کہ نئے صوبے بننے کی صورت میں کم از کم کراچی کو 600 ارب روپے کے وسائل مل سکتے ہیں۔

ان کے مطابق 4 صوبوں کے ذریعے چند ہزار خاندانوں کی جو اجارہ داری قائم ہے اسے ختم کرکے عوام کو آگے آنے کا موقع دینا چاہیے تاکہ کئی صوبوں پر مشتمل ایسا پاکستان تشکیل پائے جس میں عوام کی حقیقی شراکت داری ہو۔

انہوں نے کہا کہ جب اجارہ داری ختم اور شراکت داری قائم ہوگی تو لوگ خود کو ملک کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جڑا ہوا محسوس کریں گے۔

ن لیگ صوبوں کے معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرے

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن ایک بڑی سیاسی جماعت ہے اور اسے نئے صوبوں کے معاملے پر اپنا واضح مؤقف سامنے لانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن میں بعض لوگوں کی رائے یہ ہے کہ اگر پنجاب میں نئے صوبے بننے ہیں تو سندھ میں بھی نئے صوبے بننے چاہییں۔ تاہم ان کے بقول پارٹی نے اپنے مؤقف کو اس شرط سے جوڑ دیا ہے کہ صرف پنجاب میں صوبے نہ بنائے جائیں بلکہ سندھ میں بھی بنائے جائیں۔

مزید پڑھیے: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید

فاروق ستار نے کہا کہ ایم کیو ایم نئے صوبوں کے قیام کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں بڑی سیاسی جماعتوں سے بات چیت بھی کررہی ہے۔

انہوں نے پاکستان تحریک انصاف پر بھی زور دیا کہ وہ اپنے بانی کی دوبارہ وزارت عظمیٰ کے خواب تک محدود رہنے کے بجائے نئے سیاسی حقائق کو تسلیم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم صرف نئے صوبوں کے قیام کی حامی نہیں بلکہ مقامی حکومتوں کو بھی مکمل طور پر بااختیار بنانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

سندھ کے 6 ڈویژن، 6 صوبے بنائے جائیں

ڈاکٹر فاروق ستار نے تجویز دی کہ سندھ کے موجودہ 6 ڈویژنوں کو 6 صوبوں میں تبدیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کا مجموعی جغرافیہ اور ’’سندھ‘‘ کا نام اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے، تاہم مشرقی سندھ، مغربی سندھ، وسطی سندھ سمیت مختلف ناموں سے 6 صوبے قائم کیے جاسکتے ہیں۔

فاروق ستار کے مطابق اس وقت ایک وزیراعلیٰ تقریباً 3 ہزار 600 ارب روپے کے وسائل استعمال کرتا ہے۔ اگر سندھ میں 6 صوبے قائم ہوجائیں تو ہر صوبے کو تقریباً 600 ارب روپے دستیاب ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ہر علاقے کے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ ان کے ڈویژن کو کتنے وسائل ملے اور وہ ان وسائل کے استعمال پر اپنے حکمرانوں سے جواب دہی کرسکیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم سندھ کو اس کے موجودہ جغرافیے کے اندر رہتے ہوئے 6 صوبوں میں تقسیم کرنے کی بات کررہی ہے۔

پیپلز پارٹی کی 18 سالہ حکمرانی پر تنقید

فاروق ستار نے سندھ میں پیپلز پارٹی کی طویل حکمرانی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

مزید پڑھیں: وی ایکسکلوسیو: سندھ کے علاوہ جہاں بھی ضرورت ہو نئے صوبے بننے چاہییں، قمر زمان کائرہ

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے سندھ میں یکطرفہ طور پر 18 سال حکومت کی جو ان کے بقول ’بدترین اور کرپٹ ترین حکمرانی‘ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب اس صورتحال کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ کراچی کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے اور ایم کیو ایم کو یقین ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر عوام میں بداعتمادی بڑھتی رہی تو لوگ بغاوت پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں اچھی بیوروکریسی موجود ہے لیکن اسے یا تو گھروں میں بٹھا دیا گیا ہے یا افسران دوسرے صوبوں میں چلے گئے ہیں۔ ان کے مطابق صوبے میں اب بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حکمرانوں کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔

فاروق ستار نے سندھ کی مجموعی صورتحال کو انتہائی خراب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی ’موئن جودڑو بن گیا ہے‘۔

مضبوط مرکز اور بااختیار صوبوں کے تجربات بھی کامیاب نہ ہوسکے

فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 80 سال ہوچکے ہیں۔ ایک دور میں یہ تصور پیش کیا جاتا تھا کہ مضبوط مرکز ہی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہے جبکہ بعد میں 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری میں اضافہ کیا گیا۔

ان کے مطابق گزشتہ 16 برسوں میں مضبوط صوبوں کا تصور بھی سامنے آیا، جبکہ جنرل مشرف کے دور میں مقامی حکومتوں کو دیے گئے اختیارات بھی واپس لے لیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں صوبے انتظامی لحاظ سے مفلوج ہوگئے، کیونکہ صوبائی حکومتوں نے ایک طرف مرکز سے اختیارات حاصل کیے اور دوسری جانب مقامی حکومتوں سے بھی اختیارات لے لیے۔

یہ بھی پڑھیے: نئے صوبے عوام کی مرضی سے بننے چاہییں، تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے، بلاول بھٹو

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ گزشتہ 16 برسوں میں مضبوط صوبے بھی مضبوط پاکستان کی بنیاد نہیں بن سکے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب شراکتی اور شمولیتی جمہوریت کی طرف بڑھ چکی ہے اور پاکستان کو بھی عوام کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر مبنی نظام کی طرف جانا ہوگا۔

پنجاب کی بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ پر رائے

فاروق ستار نے کہا کہ پنجاب کی بیوروکریسی اور سیاسی اشرافیہ کسی نہ کسی حد تک عوام کے لیے سوچتی ہے اور وہاں حکومتی اقدامات کی عملی فراہمی بھی نظر آتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ 13 کروڑ آبادی والے صوبے کے تمام مسائل اس انداز میں حل نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ عوام اور خواص کے درمیان فاصلے کو کم کرنے کے لیے نئے انتظامی یونٹس کا قیام ضروری ہے۔

فاروق ستار کے مطابق پنجاب کی حکمران اشرافیہ کا وژن سندھ کی حکمران اشرافیہ کے مقابلے میں بہتر ہے تاہم 13 کروڑ آبادی والے صوبے کی مکمل ذمہ داری سنبھالنا انتہائی مشکل کام ہے۔

معرکہ حق کی کامیابی کو معاشی ترقی کی طرف لے جانا ہوگا

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ برس فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کو ’معرکۂ حق‘ میں جو بے مثال کامیابی حاصل ہوئی اور اس کے بعد پاکستان نے اپنی سفارت کاری کے ذریعے تیسری عالمی جنگ کا راستہ روکنے میں بھی کردار ادا کیا۔

ان کے مطابق دنیا نے پاکستان کی سفارت کاری کو تسلیم کیا اور اب پاکستان کو اس کامیابی سے حاصل ہونے والی اپنی بہتر عالمی حیثیت کو معاشی میدان میں استعمال کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: 6 ماہ کے اندر نئے صوبے بنانے کا فیصلہ، کیا نئی آئینی ترمیم آرہی ہے؟

فاروق ستار نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو معرکہ حق کی صورت میں جو بے مثال تحفہ دیا ہے اب اسے ’معرکۂ معیشت‘ کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp