امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ریپبلکن پارٹی کے اجلاس کے دوران میکسیکو اور فلسطین کے پرچم لہرا کر احتجاج کرنے والے شخص کو سخت جواب دیا، جس کے بعد ہال میں موجود شرکا نے ’یو ایس اے، یو ایس اے‘ کے نعرے لگائے۔
امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈلاس میں ریپبلکن نیشنل کمیٹی کے وسط مدتی کنونشن سے خطاب کے دوران ایک شخص نے ہجوم میں سے میکسیکو اور فلسطین کے پرچم لہراتے ہوئے جے ڈی وینس کی تقریر میں خلل ڈالا۔ احتجاج کرنے والے کو بعد ازاں سیکیورٹی اہلکاروں نے ہال سے باہر نکال دیا۔
جے ڈی وینس نے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہال میں موجود شخص نے میکسیکو کا پرچم لہرا کر احتجاج کیا۔ انہوں نے احتجاج کرنے والے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسے میکسیکو اتنا پسند ہے تو وہ وہاں چلا جائے، حتیٰ کہ وہ اس کے ہوائی ٹکٹ کے اخراجات بھی ادا کردیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران پر معاشی دباؤ امریکی مقاصد حاصل کرنے کا مؤثر ترین ذریعہ ہے، جے ڈی وینس
واقعے کے بعد شرکا نے ’یو ایس اے، یو ایس اے، یو ایس اے‘ کے نعرے لگائے۔
جے ڈی وینس نے اپنے خطاب میں ’امریکا فرسٹ‘ پالیسی اور امریکی قوم پرستی پر زور دیا۔ انہوں نے امریکی خاندان اور ملکی شناخت کے حوالے سے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ اس ملک کے حقوق اور مواقع کا حقدار ہے، خواہ اس کے والدین کون ہوں یا وہ کہاں سے آئے ہوں۔
انہوں نے کہا کہ امریکی بچوں کا حق صرف ان کے والدین یا ظاہری شکل کی بنیاد پر نہیں بلکہ امریکی شہری ہونے کی وجہ سے ہے۔
خطاب کے دوران کئی بار شرکا نے ’جے ڈی، جے ڈی، جے ڈی‘ کے نعرے بھی لگائے۔ جے ڈی وینس نے ریپبلکن پارٹی کے وسط مدتی انتخابات کی تیاریوں کے دوران اپنی تقریر میں ڈیموکریٹس پر بھی تنقید کی۔













