امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ امریکا کا سب سے مؤثر ہتھیار ہے تاہم انہوں نے موجودہ صورتحال کو دونوں ممالک کے درمیان دباؤ کے تبادلے کا ایک نازک توازن قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا خلائی منصوبہ، امریکا 2030 تک سالانہ ایک ہزار لانچز کا ہدف حاصل کرے گا
ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا اور ایران ایک دوسرے پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاہم گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران نے امریکا کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ محسوس کیا ہے۔
وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران پر امریکی معاشی پابندیوں اور دباؤ میں مزید اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعے کو عراقی دارالحکومت بغداد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کریں۔
یہ بیانات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے ایران کے خلاف کسی بھی ملک کے خلاف کی جانے والی اب تک کی سب سے تباہ کن معاشی کارروائی شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے ان ممالک کے خلاف بھی سخت مالی سزاؤں کی دھمکی دی ہے جو تہران کو امریکی پابندیوں سے بچنے میں مدد دیں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ کارروائی غیر معمولی پیمانے پر معاشی جنگ اور تنہائی کا باعث بنے گی۔
مزید پڑھیے: ایران کی اقتصادی تباہی کا ٹرمپ کا دعویٰ جھوٹ، تاہم منفی معاشی شرح نمو کا خطرہ موجود ہے، ایرانی ماہر معیشت
جے ڈی وینس نے گفتگو کے دوران امریکی شہریوں کے لیے پٹرول کی قیمتیں اب بھی بلند ہونے کا اعتراف کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے کیونکہ امریکی فوج کی مدد سے آبنائے ہرمز سے زیادہ مقدار میں تیل اور گیس نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے۔
تاہم بحری تجارت سے متعلق اعداد و شمار اس دعوے کے حوالے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد بدستور بہت کم رہی۔ پیر کو صرف 10 بحری جہاز آبنائے سے گزرے جبکہ اتوار کو یہ تعداد صرف 2 تھی۔
واضح رہے کہ جنگ سے قبل آبنائے ہرمز سے روزانہ اوسطاً تقریباً 130 بحری جہاز گزرتے تھے۔
جے ڈی وینس کے مطابق ایران کا سب سے بڑا دباؤ ڈالنے کا ذریعہ آبنائے ہرمز تک رسائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی کوشش ہے کہ اگر اس راستے سے تیل اور گیس کی ترسیل کو جنگ سے پہلے کی سطح تک مکمل طور پر بحال کرنا ممکن نہ بھی ہو تو کم از کم اتنی مقدار میں توانائی کی ترسیل یقینی بنائی جائے جس سے امریکی شہریوں کو پٹرول پمپس اور توانائی کی قیمتوں میں کچھ ریلیف مل سکے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات سے انکار، تہران کا آبنائے ہرمز بند رکھنے پر اصرار
وینس نے دعویٰ کیا کہ ایران کو تجارتی بحری جہازوں پر فائرنگ کرنے کی وجہ سے سزا دی جا رہی ہے اور امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایرانی فورسز دوبارہ ایسا کرنے کے قابل نہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں ہم اس معاملے میں کافی کامیاب رہے ہیں۔
جے ڈی وینس کے یہ ریمارکس ڈونلڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹ سے بھی مطابقت رکھتے ہیں جس میں امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہے۔
وینس نے کہا کہ ایران کے سامنے بنیادی طور پر 2 ہی راستے ہیں ایک یہ کہ وہ ہمیشہ کے لیے اپنی معیشت کا گلا گھونٹنے کی صورتحال قبول کرلے یا مغرب کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈیموکریٹس کا یو ایس ایس ابراہم لنکن کی صورتحال پر ٹرمپ انتظامیہ سے جواب طلب
ان کے مطابق امریکی صدر نے ابتدا ہی سے ایران کے سامنے یہی انتخاب رکھا ہے کہ وہ کشیدگی اور معاشی تنہائی کا راستہ اختیار کرے یا مغرب کے ساتھ بہتر تعلقات کی جانب بڑھے۔














