عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے پھیلنے کے خدشات نے مہنگائی میں اضافے کا خطرہ بڑھا دیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 6 فیصد اضافے کے بعد 109.97 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو 4 ماہ کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ رواں ہفتے تیل کی قیمت میں قریباً 13 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔
تیل مہنگا ہونے کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ دنیا بھر کے مرکزی بینک مہنگائی پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرسکتے ہیں۔ امریکا میں 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی شرح منافع 4.97 فیصد تک پہنچ گئی، جو 3 سال کی بلند ترین سطح ہے، جبکہ 30 سالہ بانڈ کی شرح 5.38 فیصد کی 19 سالہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
Oil jumps 7.5% to $108!
Global bond yields see big sell-off
Almost 5% on US 10-yr yield. Nasdaq -0.6%
Nifty resistance at 23,600, support at 23,200
Trade set-up @_prashantnair
#GIFTNIFTY #Nifty #BankNifty #IranWar #Trump #Options #Trading #Saudi #Yemen #NSEIPO pic.twitter.com/O2F64cWTGV— CNBC-TV18 (@CNBCTV18News) September 11, 2026
ایشیا کی اسٹاک مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ جاپان کا نکی 2.8 فیصد، چین کا سی ایس آئی 300 انڈیکس 1.2 فیصد اور ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.5 فیصد گر گیا۔ جے پی مورگن کے مطابق امریکا، جاپان، یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت ترقی یافتہ معیشتوں کے 9 میں سے 8 مرکزی بینک رواں سال کے اختتام تک شرح سود بڑھا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات میں ڈیڈ لاک، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
سرمایہ کاروں کی نظریں اب امریکا میں اگست کی صارف قیمتوں کے اعداد و شمار پر ہیں، جو اگلے ہفتے امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ دوسری جانب بلند بانڈ شرح منافع کے باعث امریکی ڈالر مضبوط ہوا، جبکہ سونے کی قیمت میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔














