عراق کے کردستان ریجن سے بھی امریکی و اتحادی افواج کا انخلا شروع

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عراق کے شمالی خطے کردستان سے امریکی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحاد کی افواج نے اپنے باضابطہ انخلا کا آغاز کر دیا ہے۔ بغداد اور واشنگٹن کے مابین 2024 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت ستمبر کے اختتام تک داعش مخالف مشن کو مکمل طور پر ختم کر کے تمام غیر ملکی فورسز کو ملک سے نکلنا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق دیگر علاقوں سے واپسی کے بعد اب یہ فورسز صرف اربیل بین الاقوامی ہوائی اڈے تک محدود رہ گئی تھیں، جہاں سے اب ان کی روزانہ کی بنیاد پر واپسی کا عمل جاری ہے۔

کردستان کے وزیر داخلہ ریبر احمد نےصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ معاہدے کے تحت ان فورسز کو ستمبر کے آخر تک عراق چھوڑنا ہے، اور عملًا انہوں نے اس پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل صوبہ کردستان میں بھی شروع ہو چکا ہے اور فورسز کو روزانہ کی بنیاد پر عراق سے باہر دیگر مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے عراق: فوجی اڈے پر راکٹ حملے میں متعدد امریکی اہلکار زخمی

عراقی اور امریکی حکومتوں کے درمیان 2024 میں طے پانے والے ایک معاہدے کے مطابق، عسکریت پسند تنظیم ’داعش‘کے خلاف مشن مکمل ہونے کے بعد تمام اتحادی فورسز کو ستمبر کے اختتام تک عراق سے نکلنا ہے۔ اتحادی فورسز جنوری میں ہی عراق کے دیگر تمام اڈے خالی کر چکی تھیں اور ان کی موجودگی صرف شمالی خطے کردستان تک محدود تھی۔

ایک سینئر عراقی عہدیدار نے بھی کردستان سے اتحادی فورسز کے انخلا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اب یہ افواج صرف اربیل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ واضح رہے کہ اتحادی فورسز رواں برس کے آغاز میں شام سے بھی اپنی کارروائیاں ختم کر کے نکل چکی ہیں۔

داعش کے خلاف جنگ اور جغرافیائی پس منظر

امریکی قیادت میں یہ بین الاقوامی اتحاد 2014 میں عراق اور شام کے بڑے رقبے پر قابض ہونے والی عسکریت پسند تنظیم داعش کے خلاف جنگ کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ داعش کو 2017 میں عراق اور 2019 میں شام میں شکست دی گئی تھی۔ اگرچہ اس جنگجو گروپ کی کچھ باقیات اب بھی پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں موجود ہیں، تاہم ان کے حملوں میں نمایاں کمی آئی ہے اور عراقی سیکیورٹی دستے ان کے خلاف مسلسل کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

علاقائی سیاست اور مسلح دھڑوں کا موقف

داعش کی شکست کے بعد عراق میں غیر ملکی فورسز کی موجودگی عراقی حکام اور ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیموں کے درمیان شدید تنازع کا باعث بنی رہی۔ یہ دھڑے سالہا سال سے اتحادی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم علی الزیدی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ریاست کی قلمرو اور اسلحے پر صرف حکومت کی اجارہ داری قائم کی جائے گی اور تمام مسلح دھڑوں سے ہتھیار واپس لیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے عراق میں امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکوں کی ویڈیوز وائرل

اگرچہ بعض مسلح گروپوں نے سرکاری اداروں کا حصہ بننے پر رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن متعدد دیگر دھڑوں نے غیر ملکی افواج کی موجودگی کو جواز بناتے ہوئے ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا تھا۔ عراقی حکام نے ان دھڑوں کے لیے بھی ستمبر کی حتمی مہلت مقرر کی ہے، تاکہ اتحادی افواج کے انخلا کے بعد ان کے پاس مسلح رہنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp