اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت کے قدرتی ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر قبضوں اور تجاوزات کے خلاف درخواست پر چیئرمین سی ڈی اے، چیف کمشنر اسلام آباد اور وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔
مزید پڑھیں:کراچی سے مارگلہ کے دامن تک: پاکستان کے مستقل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا تاریخی سفر
جسٹس انعام امین منہاس نے ایڈووکیٹ قاسم اقبال جلالی کی جانب سے ذاتی حیثیت میں دائر مفادِ عامہ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد میں ہر سال سیلابی صورتحال پیدا ہوتی ہے جو تشویشناک ہے، جبکہ شہر کے بیشتر قدرتی ندی نالوں پر تجاوزات قائم ہوچکی ہیں۔
وکیل قاسم اقبال نے عدالت کو بتایا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں کا راستہ تنگ کردیا گیا ہے، جس کے باعث بارشوں کے دوران پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ درخواست گزار کے مطابق یکم ستمبر کو بھی ای الیون، کورال، غوری ٹاؤن اور چٹھہ بختاور سمیت مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوئی۔
سماعت کے دوران جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا، ’آپ چاہتے ہیں کہ سارے اسلام آباد کے ندی نالوں پر تجاوزات کا سروے کیا جائے؟‘ درخواست گزار نے استدعا کی کہ قدرتی ندی نالوں کا سیٹلائٹ سروے کرایا جائے اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جائے۔
مزید پڑھیں:اسلام آباد خوش منظر یا بد صورتی کا شکار شہر؟
عدالت نے چیف کمشنر اسلام آباد، چیئرمین سی ڈی اے اور وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے 2 ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ قدرتی آبی گزرگاہوں کی بحالی اور تجاوزات کے خاتمے سے مستقبل میں سیلابی صورتحال کے خطرات کم کیے جاسکتے ہیں۔














