وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے ذیابیطس سے بچاؤ اور اس پر قابو پانے کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بیماری کے علاج کے ساتھ ساتھ روک تھام، بروقت تشخیص، فوری مداخلت اور عوامی آگاہی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔
اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں قومی وزیراعظم پروگرام برائے انسداد و کنٹرول ذیابیطس کے تحت ذیابیطس سے بچاؤ اور کنٹرول کے لیے میڈیا مہم کی حکمت عملی سے متعلق قومی مشاورتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں وفاقی قیادت، پالیسی سازوں، طبی ماہرین، ترقیاتی شراکت داروں، میڈیا نمائندوں اور مختلف اداروں کے حکام نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:ذیابیطس اور موٹاپے کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات سے کینسر کے خطرات کم ہونے کا امکان، تحقیق
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے قومی مکالمے کی قیادت کرتے ہوئے کہا کہ ذیابیطس کی روک تھام اور کنٹرول کو قومی صحت کی ترجیحات میں نمایاں مقام حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو صرف علاج تک محدود رہنے کے بجائے بیماری سے بچاؤ، جلد تشخیص اور بروقت علاج کی جانب بڑھنا ہوگا، جس کے لیے حکومت، طبی ماہرین، میڈیا، سول سوسائٹی اور عوام کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔
قومی وزیراعظم پروگرام کی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عمارہ نصیر نے پروگرام کے وژن اور آئندہ کے لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔ عمر ڈائبیٹیز فاؤنڈیشن کے ایگزیکٹو و میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد عمر وہاب نے پاکستان میں ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر قومی سطح پر فیصلہ کن اقدامات کا وقت آ گیا ہے۔
ورکشاپ میں ڈویلپمنٹ کمیونیکیشن کی رکن و ایڈیشنل چارج سوشل سیکٹر اینڈ ڈیولوشن محترمہ آمنہ علی کمال، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ ڈاکٹر زعیم ضیا، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے فوکل پرسن سید ذیشان علی نقوی سمیت وزارتِ صحت، پلاننگ کمیشن، ڈائریکٹوریٹ جنرل ہیلتھ، مختلف شہروں کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران اور دیگر اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
مزید پڑھیں:صرف وزن کم کرنا ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں، ماہرین کا انتباہ
سینئر صحافی حامد میر سمیت میڈیا نمائندوں کی شرکت نے ذیابیطس کے خلاف قومی مہم میں ذرائع ابلاغ کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔ ورکشاپ میں عوامی آگاہی، طرزِ زندگی میں مثبت تبدیلی اور ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے مؤثر ابلاغی حکمت عملی وضع کرنے پر غور کیا گیا۔
ورکشاپ سے سامنے آنے والی سفارشات اور حکمت عملی قومی وزیراعظم پروگرام برائے انسداد و کنٹرول ذیابیطس کے نفاذ اور آئندہ کے اقدامات میں معاون ثابت ہوں گی۔ ورکشاپ کا انعقاد عمر ڈائبیٹیز فاؤنڈیشن اور وزارتِ قومی صحت، ضوابط و رابطہ کاری کے اشتراک سے کیا گیا۔
شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ذیابیطس کے خلاف قومی کوششوں کو محض آگاہی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ پاکستان میں اس بیماری کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔














