صرف وزن کم کرنا ٹائپ 2 ذیابیطس سے بچاؤ کے لیے کافی نہیں، ماہرین کا انتباہ

جمعرات 30 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وزن کم کرنا اگرچہ صحت کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن بعض ایسے افراد جن میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، صرف وزن کم کرنے سے اس بیماری سے محفوظ نہیں رہ سکتے۔ تحقیق کے مطابق کچھ افراد میں وزن کم کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے باوجود خون میں شوگر کی سطح بڑھتی رہی اور انسولین بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی۔

تحقیق کے مطابق ایسے افراد جو ذیابیطس کے زیادہ خطرے والے گروپ کلسٹر 5  میں شامل تھے، انہوں نے اپنے جسمانی وزن میں تقریباً 8 فیصد کمی کی اور کئی سال تک اسے برقرار بھی رکھا، لیکن اس کے باوجود ان میں خون میں شوگر کی سطح بڑھتی رہی، انسولین بنانے کی صلاحیت کمزور ہوتی گئی اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کا خطرہ بدستور زیادہ رہا۔

یہ بھی پڑھیے چینی کھانے کے بجائے پینا کیوں زیادہ خطرناک؟ ذیابیطس سے جڑا اہم راز سامنے آ گیا

محققین نے اپنی تحقیق کے لیے ٹیوبنگن لائف اسٹائل انٹروینشن پروگرام  سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ اس پروگرام میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے خطرے والے افراد نے 2 سالہ طرزِ زندگی کی بہتری کے پروگرام میں حصہ لیا، جس کے بعد تقریباً 9 سال تک ان کی صحت کی نگرانی کی گئی۔

تحقیق میں خاص طور پر ان افراد کا جائزہ لیا گیا جنہوں نے نمایاں وزن کم کیا اور طویل عرصے تک اسے برقرار رکھنے میں کامیاب رہے۔

تحقیق کے مرکزی مصنف پروفیسر نوربرٹ اسٹیفن نے کہا کہ محققین کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وزن میں 8 فیصد مسلسل کمی اور 9 سالہ طویل نگرانی کے باوجود بعض افراد میں خون میں گلوکوز کی سطح بڑھتی رہی، انسولین کے اخراج میں کمی آئی اور ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ مسلسل بلند رہا۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق میں ان حیاتیاتی عوامل کا جائزہ لیا گیا جو اس گروپ میں میٹابولزم (جسم کے اندر توانائی بنانے کے نظام) کی خرابی کی وجہ بن سکتے ہیں۔

تحقیق کے نتائج طبی جریدے Diabetes (2026) میں شائع کیے گئے ہیں۔ نتائج سے ماضی کی ان تحقیقات کو بھی تقویت ملتی ہے جن میں بتایا گیا تھا کہ فیٹی لیور (جگر میں چربی کا جمع ہونا) اور انسولین ریزسٹنس  ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے 20 سے 29 سال کی خواتین میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ

محققین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل میں مزید تحقیق سے ان نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو ذیابیطس سے بچاؤ کے طریقہ کار کو زیادہ شخصی (Personalized) بنانے کی ضرورت ہوگی۔

ان کے مطابق ایسے افراد جن میں ذیابیطس کا مخصوص حیاتیاتی خطرہ موجود ہو، انہیں زیادہ مؤثر نگرانی، خصوصی علاج یا ایسے طریقۂ علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے جو ان کے مخصوص میٹابولک مسائل کو مدنظر رکھ کر تیار کیے جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب کی ترقی میں خواتین کا کردار ناقابلِ فراموش، یونیفارم صرف لباس نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری ہے، مریم نواز

انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لیے قومی و عالمی تعاون ناگزیر، وزیراعظم اور صدر مملکت کا عالمی دن پر پیغام

مقبوضہ کشمیر میں ذہنی امراض کی صورتحال تشویشناک شکل اختیار کرگئی، بھارتی حکومت کا اعتراف

’5 اگست کے سیمی فائنل کی تیاری کر رہے ہیں؟‘، انگلینڈ میں کرکٹ کھیلتے اسد قیصر کی ویڈیو پر صارفین کی تنقید

پنجاب کو فلڈ ریزیلنٹ بنانے کے لیے اقدامات تیز، مون سون اور ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاریوں کا جائزہ

ویڈیو

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

ایکشن کمیٹی نے الیکشن فارم سے ریاست پاکستان سے وفاداری کی شق نکالنے کا مطالبہ کیا، وزیر امور کشمیر امیر مقام

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین