مصنوعی ذہانت ناسا کے موسمیاتی ڈیٹا کو استعمال کر کے شدید موسم کی پیشگوئی بہتر بنا رہی ہے

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوئس محققین مصنوعی ذہانت اور ناسا کے موسمیاتی ڈیٹا کی وسیع مقدار کو استعمال کرتے ہوئے شدید موسم کی پیشگوئی اور قدرتی آفات کی ابتدائی وارننگ کی علامات کا پتا لگانے کے تیز تر طریقے تیار کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟

فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی زیورخ (ای ٹی ایچ) کے سائنسدانوں نے ناسا کے عوامی طور پر دستیاب تقریباً 100 پیٹا بائٹس ڈیٹا کو الپس سے منسلک سرورز پر منتقل کیا ہے جو دنیا کے طاقتور ترین سپر کمپیوٹرز میں سے ایک ہے۔

ای ٹی ایچ کے سینٹر فار کلائمیٹ سسٹمز ماڈلنگ کے سربراہ اور کلائمیٹ فزکس کے پروفیسر ریٹو کنوٹی کے مطابق تقریباً 6 ارب فائلز پر مشتمل یہ ڈیٹا منتقل کرنے میں تقریباً ایک سال لگا۔

محققین کا ماننا ہے کہ زمین کے مشاہدے کے بڑے ڈیٹا سیٹس کو اے آئی اور ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ کے ساتھ جوڑنے سے ایسے پیٹرنز سامنے آ سکتے ہیں جو روایتی پیشگوئی کے طریقے نظر انداز کر سکتے ہیں۔

اے آئی آفات کی وارننگ کو بدل سکتا ہے

اے آئی پر مبنی شماریاتی ماڈل موسم کے پیٹرنز کو پیچیدہ ماحولیاتی اور سمندری عمل کی روایتی ریاضیاتی سمولیشنز کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے پروسیس کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کتنے فیصد بالغ امریکی اے آئی چیٹ بوٹس سے نجی گفتگو کرتے ہیں؟

ریٹو کنوٹی نے کہا کہ ایک شماریاتی ماڈل ممکنہ طور پر کئی دنوں پر محیط عالمی پیشگوئی تقریباً ایک منٹ میں تیار کر سکتا ہے جس سے محققین کو پیشگوئیاں بار بار چلانے اور ابھرتے ہوئے موسمی پیٹرنز کی شناخت کرنے کا موقع ملے گا۔

اگرچہ اے آئی ماڈلز کو تربیت دینے کے لیے کافی وسائل درکار ہوتے ہیں لیکن ایک بار تیار ہو جانے کے بعد انہیں چلانا نسبتاً سستا ہوتا ہے جس سے ممکنہ طور پر زیادہ بار بار پیشگوئیاں اور قدرتی آفات کے لیے بہتر ابتدائی وارننگ سسٹم ممکن ہو سکتے ہیں۔

ریٹو کنوٹی کا کہنا ہے کہ ڈیٹا بنیادی طور پر سب کچھ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگلا چیلنج معلومات کے اس وسیع حجم کو مفید علم میں تبدیل کرنا ہے۔

سیٹلائٹ ڈیٹا جانیں بچانے میں مدد دے سکتا ہے

محققین کا کہنا ہے کہ اے آئی ان خطرات کی نگرانی کو بھی بہتر بنا سکتا ہے جن کی پیشگوئی کرنا مشکل ہے بشمول لینڈ سلائیڈنگ اور گلیشیئر کا گرنا۔

ریٹو کنوٹی نے سوئٹزرلینڈ کے بلاٹن کا حوالہ دیا جہاں سیٹلائٹ ڈیٹا نے تباہی سے ایک سال سے زیادہ پہلے گلیشیئر گرنے کی وارننگ علامات ظاہر کی تھیں۔ حکام نے گرنے سے ایک ہفتہ قبل گاؤں کو خالی کرا لیا جس سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کو روکنے میں مدد ملی۔

محققین نے کہا کہ اسی طرح کی نگرانی ممکنہ طور پر 26 اگست کو نیپال چین سرحد پر تباہ کن گلیشیئر گرنے سے پہلے وارننگ علامات کی نشاندہی کر سکتی تھی۔

مزید پڑھیں: فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے جدید بصری اے آئی ماڈل متعارف، یہ دیگر روبوٹس سے کیسے مختلف ہوں گے؟

ریٹو کنوٹی نے کہا کہ سیٹلائٹ ڈیٹا کا منظم تجزیہ آفات سے بچاؤ کے نگرانی کے نظام قائم کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو پہلے سے وارننگ فراہم کرنے اور ممکنہ طور پر سینکڑوں یا ہزاروں جانیں بچانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp