فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے جدید بصری اے آئی ماڈل متعارف، یہ دیگر روبوٹس سے کیسے مختلف ہوں گے؟

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ٹیکنالوجی کی دنیا میں مصنوعی ذہانت یا اے آئی کا استعمال اب صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود نہیں رہا بلکہ اسے حقیقی اور مادی دنیا میں لانے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خودکار ڈیلیوری روبوٹس کا تجربہ ختم، سڑکوں سے ہٹا دیے گئے

میٹا کے سابق محققین کے قائم کردہ اسٹارٹ اپ ‘پرسپٹران’ نے ایک نیا فرنٹیئر ویژن اے آئی ماڈل ’ آئیزک  0.5‘ پیش کر دیا ہے، جو صنعتی روبوٹس کو فیکٹریوں اور گوداموں میں دیکھ کر سمجھنے اور کام کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

سابقہ میٹا سائنسدانوں کا اقدام

اس اسٹارٹ اپ کی بنیاد ارمن آغاجانیان اور اکشت شریواستو نے نومبر 2024 میں رکھی جو پہلے میٹا کے مشہور ریسرچ ڈویژن فیئر میں کام کر چکے ہیں۔

’ آئیزک  0.5‘ کیا ہے؟

یہ ایک نیا اوپن ویٹ بصری ماڈل ہے جس کا مقصد روبوٹس اور مشینوں کو صنعتی ماحول میں دیکھنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کے قابل بنانا ہے۔ یہ گوداموں اور فیکٹریوں کی پیچیدہ جگہوں پر نیویگیشن اور ویڈیو ڈیٹا کا تجزیہ کرنے میں مدد کرتا ہے۔

 روایتی روبوٹک سافٹ ویئر کے برعکس یہ ماڈل صرف کسی ایک مخصوص کام کے لیے نہیں بنا بلکہ یہ مختلف حالات اور ماحول کے حساب سے خود کو ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

روبوٹس کے پیچیدہ مراحل کا حل

مثال کے طور پر سامان کی ترسیل کے لیے روبوٹ کو لیبل پڑھنے، ڈبوں کی جگہ کا اندازہ لگانے، انہیں اٹھانے کی ترتیب طے کرنے اور کام انجام دینے کے لیے مختلف الگورتھم کی ضرورت ہوتی ہے۔ پرسپٹران کا سافٹ ویئر ان تمام مراحل کو ایک ہی لچکدار سسٹم میں حل کرتا ہے۔

مزید پڑھیے: چین روبوٹکس کا عالمی مرکز بننے کی راہ پر، انسانی نما روبوٹس کی تیاری میں نمایاں برتری

اس ماڈل کو سکھانے کے لیے 10 لاکھ گھنٹوں کی عمومی ویڈیوز استعمال کی گئی ہیں جن میں گوپرو اور پہننے والے کیمروں سے لی گئی انسانوں کی روزمرہ نقل وحرکت ایگو (انسان کے اپنے نقطہ نظر/کیمرے سے ریکارڈ شدہ ویڈیوز) اور یو ایم آئی ویڈیوز (انسانوں کی روایتی اور یکساں نقل و حرکت کی ریکارڈنگز) شامل ہیں تاکہ روبوٹ انسانوں کی طرح کام سیکھ سکیں۔

صنعتی استعمال اور سرمایہ کاری

یہ ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ، لاجسٹکس، سیکیورٹی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں انقلاب لا سکتی ہے۔ کمپنی اب تک بشمول ‘بیسمر وینچر پارٹنرز’  سے 16 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر چکی ہے اور مزید سرمایہ کاری کی تیاری کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ فیکٹریوں اور گوداموں میں روبوٹس کا استعمال نیا نہیں ہے اور مشینیں ایک عرصے سے انسانوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں لیکن ماضی کے روبوٹس اور اس نئے اے آئی ماڈل میں بنیادی فرق ان کے کام کرنے کے انداز کا ہے۔ پہلے سے موجود روایتی روبوٹس صرف سخت اور محدود کوڈنگ پر چلتے ہیں۔ یعنی اگر کسی روبوٹ کو ایک مخصوص سائز کا ڈبہ ایک طے شدہ جگہ سے اٹھانے کے لیے تیار کیا گیا ہے تو وہ بلا تاخیر وہی ایک کام بار بار دہراتا رہے گا۔ لیکن اگر اس ڈبے کی جگہ چند انچ بدل جائے، اس کا وزن یا سائز تبدیل ہو جائے یا راستے میں کوئی غیر متوقع رکاوٹ آ جائے تو روایتی روبوٹ کام روک دیتا ہے یا غلطی کر بیٹھتا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا انسان نما روبوٹس میدان جنگ میں اترنے والے ہیں؟

اس کے برعکس آکسفورڈ اور میٹا کے سابق ماہرین کا تیار کردہ یہ نیا ماڈل یعنی ‘آئیزک 0.5’، روبوٹس کو صرف ایک مشین سے بڑھ کر بصری دماغ فراہم کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے روبوٹس انسان کی طرح اپنے ارد گرد کے ماحول کو دیکھ کر، حالات کا اندازہ لگا کر اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ یہ نیا سسٹم روبوٹس کو کسی ایک مخصوص کام تک محدود رکھنے کے بجائے مختلف حالات اور بدلتے ہوئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کی لچک دیتا ہے جس سے صنعتی شعبے میں واقعی خودکار اور ذہین آٹومیشن کا ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹیکس اصلاحات میں شفافیت کے لیے تھرڈ پارٹی آڈٹ یقینی بنایا جائے، وزیر اعظم شہباز شریف

’آخر مزید کتنے بچوں کی جانیں جائیں گی؟‘، پمز میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر شوبز شخصیات پھٹ پڑیں

یورپ کے معمر ترین حکمران شاہ ہارالڈ پنجم انتقال کرگئے، نیا بادشاہ کون ہوگا؟

’روز 1300 بچے مر رہے ہیں، اگلے بچے کو مرنے سے بچائیں‘، وزیر صحت کا قومی اسمبلی میں جذباتی خطاب

کیرولین لیویٹ کا وائٹ ہاؤس میں آخری دن بچوں کے نام، بریفنگ روم میں جذباتی لمحات

ویڈیو

دفاعی تعاون کے بعد پاک سعودی اقتصادی و زرعی شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق، ٹیکنالوجی، پانی اور زرعی تجارت میں تعاون بڑھانے کا فیصلہ

پمز آتشزدگی: جدید فائر سیفٹی نظام ہوتا تو اتنا بڑا سانحہ نہ ہوتا

بیرسٹر سیف کا عمران خان سے رابطہ بحال، علی امین گنڈاپور عرصے بعد متحرک ہوگئے، سہیل آفریدی سے بھی دوریاں ختم

کالم / تجزیہ

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ