انگلینڈ کے نارتھ ویسٹ علاقے کی پولیس فورس نے غیر ہنگامی کالز کو کم کرنے کی کوشش میں اپنی ویب سائٹ پر ایک نیا اے آئی سے چلنے والا ورچوئل پولیس اسسٹنٹ متعارف کرادیا۔
یہ بھی پڑھیں: ریٹائرڈ افراد کا رجحان اے آئی چیٹ بوٹس کی جانب کیوں بڑھ رہا ہے؟
مرسی سائیڈ پولیس نے بوبی نامی ایک چیٹ بوٹ متعارف کرایا ہے جس کے بارے میں فورس کا کہنا ہے کہ اسے عوام غیر ہنگامی پولیس سے متعلق سوالات کے لیے استعمال کریں گے۔
فورس نے کہا کہ ورچوئل اسسٹنٹ رہنمائی فراہم کر سکتا ہے اور صارفین کو درست خدمات سے جوڑ سکتا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ ٹونی فیئرہرسٹ نے میڈیا کو بتایا کہ ہم نارتھ ویسٹ میں یہ سہولت متعارف کرانے والی پہلی فورس ہیں۔ مرسی سائیڈ پولیس کو موصول ہونے والی 20 فیصد کالز ایسی ہوتی ہیں جن سے نمٹنے کے لیے پولیس آپریٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اے آئی بوبی غیر فوری معاملات کو دیکھے گا اور اس طرح افسران کے لیے وقت خالی کرے گا۔
سپرنٹنڈنٹ فیئرہرسٹ نے وضاحت کی کہ اے آئی بوبی حقیقی ایمرجنسی 999 کالز کا متبادل نہیں ہے بلکہ غیر ہنگامی صورتحال کے لیے ایک متبادل ہے۔
انہوں نے نئے ٹول کے بارے میں کہا کہ یہ کسی چیز کا متبادل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب کوئی 999 پر کال کرتا ہے تو یہ ہنگامی عمل میں مداخلت نہیں کرتا لیکن ہمیں مرسی سائیڈ پولیس کو روزانہ تقریباً 2,000 کالز موصول ہوتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے 20 فیصد کالز ایسی ہوتی ہیں جن کے لیے پولیس آپریٹر کی ضرورت نہیں ہوتی۔
مرسی سائیڈ پولیس کے مطابق عوام اپنے نئے اے آئی اسسٹنٹ بوبی کے ذریعے اپنی کسی چیز کی چوری، گمشدہ سامان، معمولی نقصان، شور شرابے یا اینٹی سوشل رویے جیسی غیر ہنگامی شکایات درج کرا سکیں گے۔ پہلے سے رپورٹ شدہ چوری یا واردات کا فالو اپ لے سکیں گے، متعلقہ رہنمائی حاصل کر سکیں گے اور درست محکمے یا سروس سے رابطہ کر سکیں گے۔
سپرنٹنڈنٹ فیئرہرسٹ کا کہنا تھا کہ اب کوئی بھی ویب سائٹ پر جا کر چیٹ بوٹ کے ساتھ بات چیت کر سکتا ہے اور یہ غیر فوری معاملات کو حل کرے گا۔
فیئرہرسٹ نے کہا کہ یہ عمل صارف سے پوچھتا ہے کہ آیا ان کا معاملہ ہنگامی ہے یا نہیں اگر ایسا ہے تو صارف کو 999 پر کال کرنے کے لیے کہا جاتا ہے۔
اگر نہیں تو صارف کو اپنا نام، ای میل ایڈریس اور فون نمبر درج کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے اور پھر چیٹ بوٹ کو مسئلہ بیان کرنا ہوتا ہے۔
فیئرہرسٹ نے وضاحت کی کہ پھر ہم چیٹ بوٹ کے ذریعے خودکار طریقے سے اس سے نمٹ سکتے ہیں تاکہ عوام کے اس رکن کو درست معلومات اور درست جواب مل سکے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نظام 101 جیسی موجودہ خدمات کا متبادل نہیں ہوگا بلکہ ان لوگوں کے لیے ایک اضافی سہولت ہوگی جو اسے استعمال کرنے میں آرام محسوس کرتے ہیں۔
مزید پڑھیے: اے آئی کے باعث سوچنے کی صلاحیت متاثر، سافٹ ویئر انجینیئرز بھی خود کو بے مقصد تصور کرنے لگے
ان کا کہنا تھا کہ 101 ختم نہیں ہو رہا اور ہم اب بھی موجود ہیں اور ہمارے پاس کانٹیکٹ ریزولوشن افسران ہر روز ان کالز کو سنبھال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ عوام کے لیے ایک اضافی سروس فراہم کرتا ہے جہاں وہ لوگ جو اس ڈیجیٹل سروس کو استعمال کرنے میں آرام دہ ہیں معلومات زیادہ تیزی سے حاصل کر سکتے ہیں اور یہ بھی یقینی بناتا ہے کہ ہمارے کانٹیکٹ ریزولوشن افسران دستیاب ہوں تاکہ جب کسی کو 999 پر کال کرنے کی ضرورت ہو تو اس کا فوری جواب دیا جا سکے۔
جب بوٹ کی ذہنی صحت کی پریشانی کی علامات کو پہچاننے کی صلاحیت کے بارے میں پوچھا گیا تو فیئرہرسٹ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کو لوگوں کے احساسات کو سمجھنے اور ان کی تشریح کرنے” کی تربیت دی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پتا لگا سکتا ہے کہ آیا کوئی مشتعل ہو رہا ہے، کوئی پریشان ہے اور پھر یہ تمام معلومات استعمال کر کے جہاں ضروری ہو ایک ڈیجیٹل آپریٹر تک معاملہ پہنچاتا ہے جو پھر اس سے بات چیت کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بوٹ کو غلط ہجے اور گرامر کو سمجھنے کی تربیت دی جائے گی ساتھ ہی انگریزی کے علاوہ مختلف زبانوں میں بات چیت کی اجازت بھی ہوگی۔














