اینتھروپک کا انکشاف: مجرم کس طرح اس کے اے آئی ماڈل کلاڈ کو حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں

جمعہ 11 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اینتھروپک نے بتایا ہے کہ اس کے کلاڈ اے آئی ماڈلز کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق میں مدد کے لیے، یوکرینی حکام پر حملوں میں، اور کمپنی کے اپنے اے آئی نظاموں کی صلاحیتیں چرانے کی کوششوں میں استعمال کیا گیا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز کس تیزی سے محض معاونت سے آگے بڑھ کر مذموم کارروائیوں میں فعال کردار ادا کرنے لگے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: فیکٹریوں اور کارخانوں کے لیے جدید بصری اے آئی ماڈل متعارف، یہ دیگر روبوٹس سے کیسے مختلف ہوں گے؟

یہ نتائج اینتھروپک کی تازہ ترین ’تھریٹ انٹیلی جنس‘ رپورٹ سے سامنے آئے ہیں جو گزشتہ 8 ماہ کے دوران پکڑی گئی مذموم سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نے حیاتیاتی ہتھیاروں کی تحقیق سے متعلق 5 کیسز، اس کے علاوہ سائبر آپریشنز اور مبینہ طور پر چینی اے آئی کمپنیوں سے منسلک حملوں کو بھی روکا۔

اینتھروپک کے مطابق محققین نے کلاڈ کا استعمال اس انداز میں کیا جو حیاتیاتی جنگی ہتھیاروں کی تیاری میں مددگار ثابت ہو سکتا تھا جس میں ایک ایسے خطے سے تعلق رکھنے والے محقق کا معاملہ بھی شامل ہے جہاں کلاڈ سرکاری طور پر دستیاب نہیں اور اس نے ورچوئل پرائیویٹ سرورز کے ذریعے کلاڈ تک رسائی حاصل کی۔

اس مخصوص محقق پر مبینہ طور پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ اس نے کئی ہفتوں تک کلاڈ کا استعمال کرتے ہوئے پرندوں کے فل  کو ممالیہ جانوروں میں منتقل کرنے کے قابل بنانے سے متعلق تجربات کیے۔ کمپنی نے محقق اس کے ادارے یا ملک کی شناخت ظاہر نہیں کی۔

مزید برآں کمپنی نے ان سرگرمیوں سے منسلک اکاؤنٹس بلاک کرنے کا دعویٰ کیا اور بتایا کہ انہیں اپنے تحفظاتی نظام اور تھریٹ انٹیلی جنس سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کیا۔

اس کے علاوہ کلاڈ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ اسے روایتی ہتھیاروں، جیسے میزائلوں، مسلح ڈرونز، بموں اور ٹارگٹنگ سسٹمز کے لیے سافٹ ویئر تیار کرنے میں بھی استعمال کیا گیا۔

اینتھروپک نے یوکرینی حکومت، فوج اور سفارتی اہلکاروں کے خلاف بھی ایک سائبر حملے کا پتا لگایا۔ کمپنی کے مطابق حملہ آور گروہ نے اپنی کارروائیوں کے دوران کلاڈ کا استعمال کیا جن میں فشنگ، ہوٹل وائی فائی نیٹ ورکس کو ہیک کرنا اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

اینتھروپک کے مطابق یہ سرگرمیاں ’مڈ نائٹ بلیزارڈ‘ نامی روس سے منسلک گروہ کے طریقہ کار سے مماثلت رکھتی ہیں جسے امریکی حکومت روسی خفیہ ایجنسی ایس وی آر سے جوڑتی ہے۔

مزید پڑھیے: اے آئی کا پیٹ بھرنے کے لیے کتابیں جلا کر تلف کی جانے لگیں؟ علمی ذخائر کو ٹیکنالوجی سے نیا خطرہ

اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے اے آئی ٹیکنالوجی کا استعمال یہ معلوم کرنے کے لیے کیا کہ کب ان کا میلویئر بلاک ہوا اور خودکار طور پر کوڈ میں تبدیلی کر کے اسے پکڑے جانے سے بچانے کی کوشش کی۔

اینتھروپک کے مطابق چین میں قائم 7 لیبز جن میں علی بابا، مون شاٹ، ڈیپ سیک اور شیاؤمی بھی شامل ہیں کلاڈ کی صلاحیتوں کو چرانے کی کوششوں میں ملوث پائی گئیں۔

مبینہ طور پر علی بابا نے سب سے بڑی غیر قانونی ’ڈسٹیلیشن‘ مہم چلائی جس میں مئی سے جولائی 2026 کے دوران 3500 سے زائد جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے 15 کروڑ 10 لاکھ سے زائد تعاملات کیے گئے۔

مزید پڑھیں: بظاہر فیصلہ آپ کا لیکن پیچھے اے آئی کار فرما، نئی تحقیق نے خطرناک پہلو دکھا دیا

ایک الگ کیس میں اینتھروپک نے مون شاٹ اور ڈیپ سیک پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ اس نے صارفین کی ریئل ٹائم گفتگو کو کلاڈ کے ذریعے چلا کر اس کے جوابات کو اپنے ماڈلز کی تربیت کے لیے ڈیٹا کے طور پر استعمال کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp